محرم الحرام: عظمت، قربانی اور تجدیدِ عہد کا مہینہ
خصوصی تحریر: راجہ نورالہی عاطف
اسلامی سال کا آغاز محرم الحرام سے ہوتا ہے۔ یہ مہینہ اللہ تعالیٰ کے ان چار مہینوں میں شامل ہے جنہیں قرآن مجید میں حرمت والے مہینے قرار دیا گیا ہے۔ محرم الحرام صرف نئے اسلامی سال کی آمد کا پیغام ہی نہیں دیتا بلکہ یہ مسلمانوں کو صبر، استقامت، قربانی، ایثار اور حق پر ثابت قدم رہنے کا درس بھی دیتا ہے۔
قرآن مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
“بے شک اللہ کے نزدیک مہینوں کی تعداد بارہ ہے، جن میں سے چار حرمت والے ہیں۔”
محرم الحرام انہی مقدس اور محترم مہینوں میں سے ایک ہے۔ رسول اکرم ﷺ نے اس مہینے کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا:
“رمضان کے بعد سب سے افضل روزے اللہ کے مہینے محرم کے روزے ہیں۔”
محرم الحرام کی سب سے نمایاں نسبت یومِ عاشورہ سے ہے۔ عاشورہ یعنی دسویں محرم کا دن تاریخِ اسلام میں خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔ احادیثِ مبارکہ کے مطابق اس دن اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کو فرعون کے ظلم سے نجات عطا فرمائی۔ حضور نبی کریم ﷺ نے اس دن روزہ رکھا اور امت کو بھی اس کی ترغیب دی۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ عاشورہ کا روزہ گزشتہ ایک سال کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔
محرم الحرام کا ذکر آتے ہی واقعۂ کربلا اور حضرت امام حسینؓ کی عظیم قربانی بھی ذہن میں آتی ہے۔ 10 محرم 61 ہجری کو میدانِ کربلا میں نواسۂ رسول ﷺ حضرت امام حسینؓ اور ان کے رفقاء نے حق و صداقت، عدل و انصاف اور دینِ اسلام کی سربلندی کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ یہ قربانی رہتی دنیا تک ظلم کے خلاف مزاحمت، حق کے لیے استقامت اور دین پر ثابت قدمی کی روشن مثال بنی رہے گی۔
واقعۂ کربلا ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ مسلمان ہر حال میں حق کا ساتھ دے، ظلم کے سامنے سر نہ جھکائے اور دینِ اسلام کی تعلیمات پر ثابت قدم رہے۔ حضرت امام حسینؓ نے اپنے عمل سے یہ ثابت کیا کہ باطل کے سامنے خاموشی اختیار کرنے کے بجائے حق کی خاطر ہر قربانی دینا مومن کی شان ہے۔
محرم الحرام ہمیں اپنے اعمال کا جائزہ لینے، گزشتہ زندگی کی کوتاہیوں پر توبہ کرنے اور نئے اسلامی سال کا آغاز نیک عزم و ارادے کے ساتھ کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ اس مہینے میں عبادات، ذکرِ الٰہی، تلاوتِ قرآن، صدقہ و خیرات اور نفلی روزوں کا خصوصی اہتمام کرنا چاہیے تاکہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہو سکے۔
آج کے دور میں جب امتِ مسلمہ مختلف چیلنجز سے دوچار ہے، محرم الحرام کا پیغام پہلے سے زیادہ اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ ہمیں حضرت امام حسینؓ کے کردار، صبر، جرات اور حق پسندی سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے اپنے معاشرے میں محبت، رواداری، اتحاد اور عدل و انصاف کو فروغ دینا چاہیے۔
محرم الحرام دراصل ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ ایمان کی حفاظت، حق کی سربلندی اور انسانیت کی بھلائی کے لیے دی جانے والی قربانی کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔ یہی وہ پیغام ہے جو کربلا کے تپتے ہوئے میدان سے آج بھی پوری انسانیت کو امید، حوصلہ اور حق پر قائم رہنے کی دعوت دیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں محرم الحرام کی برکتوں سے مستفید ہونے، حضرت امام حسینؓ اور ان کے رفقاء کی عظیم قربانیوں سے سبق حاصل کرنے اور اپنی زندگیوں کو اسلامی تعلیمات کے مطابق ڈھالنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔