9

صادق آباد کا پریمی جوڑا جان کے خوف سے سکھر پریس کلب پہنچ گیا ’ہم نے باہمی رضامندی سے شادی کی، اپنے ہی رشتہ دار جان کے دشمن بن گئے

صادق آباد کا پریمی جوڑا جان کے خوف سے سکھر پریس کلب پہنچ گیا ’ہم نے باہمی رضامندی سے شادی کی، اپنے ہی رشتہ دار جان کے دشمن بن گئے

سکھر(بیورورپورٹ)صادق آباد سے تعلق رکھنے والے ایک پریمی جوڑے نے جان کے شدید خطرات کے پیش نظر سکھر پریس کلب پہنچ کر میڈیا کے سامنے تحفظ کی اپیل کی ہے۔پریس کلب میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سعید احمد ولد بشیر احمد اور ان کی اہلیہ خالدہ ولد غلام نبی ملک نے بتایا کہ انہوں نے دو ماہ قبل باہمی رضامندی سے صادق آباد سیشن کورٹ میں قانونی طور پر پسند کی شادی کی ہے اور اب وہ اپنے شہر صادق آباد میں پرامن زندگی گزارنا چاہتے ہیں، تاہم خالدہ ملک کے سابقہ شوہر جس نے 4 ماہ قبل مجھے طلاق دے دی تھی اب یہ اور میرے بھائی اور قریبی رشتہ داروں کی جانب سے انہیں مسلسل ہراساں کیا جا رہا ہے اور جان سے مار دینے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔خالدہ ملک نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ سابقہ شوہر اور میرے بھائی سمیت قریبی رشتے دار ان کے شوہر اور سسرالی کو جان لیوا دھمکیاں بھی دیں رہے ہیں، حالانکہ نہ انہیں کسی نے اغواء کیا اور نہ ہی ان افراد کا اس معاملے سے کوئی تعلق ہے۔خالدہ ملک کا کہنا تھا کہ وہ اپنی مرضی سے گھر سے نکلی تھیں اور سعید احمد سے عدالت میں نکاح کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے سابقہ شوہر اور میرے بھائی جن میں اجمل ملک، خالد ملک، اکمل ملک، سعید ملک، لیاقت ملک، شوکت ملک سمیت دیگر افراد شامل ہیں، انہیں مسلسل ہراساں کر رہے ہیں اور قتل کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔پریس کلب میں گفتگو کرتے ہوئے خالدہ ملک نے کہا:”میرے بھائی اور رشتے دار ہماری جان کے دشمن بنے ہوئے ہیں۔ ہم نے عدالت میں اپنی مرضی سے شادی کی ہے لیکن ہمارے شہر صادق آباد کے افراد ہمیں نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔”سعید احمد نے میڈیا کو بتایا کہ وہ اور خالدہ ملک ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے، اسی لیے انہوں نے قانونی طریقے سے شادی کی۔ ان کے مطابق خالدہ ملک کے بھائی اس شادی سے خوش نہیں اس لئے ہمیں خدشہ ہے کہ وہ کسی بھی وقت ان کے خلاف خطرناک قدم اٹھا سکتے ہیں۔ سعید احمد کا کہنا تھا کہ خالدہ ملک نے اپنی مرضی سے گھر سے نکل کر ان سے شادی کی، جس کے بعد خالدہ کے بھائی انہیں جان لیوا دھمکیاں دے رہے ہیں ۔جوڑے نے اعلیٰ حکام سمیت وزیرِاعلیٰ پنجاب ڈی پی او سے اپیل کی کہ انہیں فوری طور پر قانونی تحفظ فراہم کیا جائے۔ تاکہ وہ پرامن زندگی گزار سکیں۔پریمی جوڑے نے مطالبہ کیا کہ ان کا بیان ریکارڈ پر لیا جائے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی صورت میں ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی ممکن بنائی جا سکے۔اس موقع پر جوڑے نے چیف جسٹس آف پاکستان، وزیراعلیٰ پنجاب اور آئی جی پنجاب سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری اقدامات کرتے ہوئے ان کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔ جوڑے کا کہنا تھا کہ اگر انہیں بروقت تحفظ فراہم نہ کیا گیا تو انہیں کسی بھی وقت قتل کیے جانے کا خدشہ ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں