شریف اکیڈمی جرمنی کے زیراہتمام محرم الحرام کی مناسبت سےخواتین کی فکری تقریب کاانعقاد
خصوصی تحریر: راجہ نورالہی عاطف
محرم الحرام اسلامی سال کا وہ مقدس اور بابرکت مہینہ ہے جو امتِ مسلمہ کو صبر، استقامت، ایثار، قربانی اور حق پر ثابت قدم رہنے کا درس دیتا ہے۔ یہ مہینہ ہمیں تاریخِ اسلام کے اس عظیم باب کی یاد دلاتا ہے جس میں حضرت امام حسینؓ اور ان کے جانثار رفقاء نے میدانِ کربلا میں حق و صداقت کی سربلندی کے لیے لازوال قربانیاں پیش کیں۔ واقعۂ کربلا محض ایک تاریخی سانحہ نہیں بلکہ انسانیت کے لیے ایک دائمی درسگاہ ہے جو ہر دور کے انسان کو ظلم، جبر اور ناانصافی کے خلاف ڈٹ جانے کا حوصلہ عطا کرتی ہے۔
خوش آئند امر یہ ہے کہ دنیا کے مختلف ممالک میں مقیم مسلمان بھی محرم الحرام کے بابرکت ایام میں شہدائے کربلا کی یاد تازہ کرتے ہوئے ان کے عظیم مشن کو نئی نسلوں تک منتقل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اسی سلسلے کی ایک خوبصورت اور بامقصد کڑی شریف اکیڈمی جرمنی کے زیرِ اہتمام منعقد ہونے والی وہ روحانی اور فکری تقریب تھی جس نے یورپ میں رہنے والی خواتین کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرکے پیغامِ حسینؓ کو عام کرنے کا قابلِ قدر فریضہ انجام دیا۔
اس باوقار تقریب کی روحِ رواں شریف اکیڈمی جرمنی کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر یورپ روحی بانو تھیں، جنہوں نے نہایت عمدہ انداز میں اس روح پرور محفل کا انعقاد کیا۔ تقریب میں مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والی خواتین کی بھرپور شرکت اس بات کا واضح ثبوت تھی کہ حضرت امام حسینؓ سے محبت اور عقیدت کسی ایک طبقے یا مکتبِ فکر تک محدود نہیں بلکہ پوری امتِ مسلمہ کے دلوں کی مشترکہ دھڑکن ہے۔
محفل کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا جبکہ شہدائے کربلا کے ایصالِ ثواب اور درجات کی بلندی کے لیے سورۂ یٰسین کی اجتماعی تلاوت کی گئی۔ مقررین نے اپنے خطابات اور مرثیوں کے ذریعے واقعۂ کربلا کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرتے ہوئے واضح کیا کہ امام حسینؓ کی جدوجہد دراصل دینِ اسلام کی حقیقی روح کے تحفظ کی جدوجہد تھی۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ کربلا ہمیں سکھاتی ہے کہ حق کی خاطر قربانی دینا ہی اصل کامیابی ہے، خواہ اس کے لیے کتنی ہی بڑی آزمائشوں کا سامنا کیوں نہ کرنا پڑے۔
اس تقریب میں فرانس کی معروف سماجی، ادبی، سیاسی اور مذہبی شخصیات کی شرکت نے محفل کو مزید وقار بخشا۔ خواتین مقررین نے اپنے خیالات کے ذریعے نہ صرف شہدائے کربلا کو خراجِ عقیدت پیش کیا بلکہ نوجوان نسل کو بھی اس عظیم واقعے کے اصل پیغام سے روشناس کرانے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج کے دور میں جب دنیا مختلف اخلاقی اور سماجی چیلنجز سے دوچار ہے، ایسے میں کربلا کا پیغام پہلے سے کہیں زیادہ اہمیت اختیار کر چکا ہے۔
روحی بانو نے اپنے خطاب میں محرم الحرام کی فضیلت اور فلسفۂ شہادتِ حسینؓ پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے بجا طور پر کہا کہ امام حسینؓ کی قربانی قیامت تک آنے والے مسلمانوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ ان کا یہ پیغام قابلِ توجہ ہے کہ خواتین اپنے گھروں اور خاندانوں میں نئی نسل کی تربیت کے دوران کربلا کی تعلیمات کو اجاگر کریں تاکہ بچوں میں سچائی، دیانت، برداشت، صبر اور اخوت جیسی اعلیٰ انسانی اقدار پروان چڑھ سکیں۔
حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی معاشرے کی تعمیر میں خواتین کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر مائیں اپنی اولاد کو حضرت امام حسینؓ کے کردار، صبر، شجاعت اور اصول پسندی سے آگاہ کریں تو آنے والی نسلیں نہ صرف بہتر مسلمان بلکہ بہتر انسان بھی بن سکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایسی فکری اور تربیتی نشستیں وقت کی اہم ضرورت ہیں۔
تقریب کے اختتام پر اجتماعی دعا نے محفل کے روحانی اثرات کو مزید گہرا کر دیا۔ بعد ازاں شرکاء کی تواضع لنگرِ حسینی سے کی گئی، جس نے محبت، اخوت اور باہمی احترام کے جذبات کو مزید مضبوط بنایا۔ یہ محفل اپنے اختتام کو ضرور پہنچی، مگر اس کے اثرات اور پیغام شرکاء کے دلوں میں دیر تک زندہ رہیں گے۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم محرم الحرام کو صرف ایک یادگار مہینے کے طور پر نہ منائیں بلکہ اس کے حقیقی پیغام کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنائیں۔ حضرت امام حسینؓ کی قربانی ہمیں بتاتی ہے کہ اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا، حق کا علم ہر حال میں بلند رکھنا چاہیے اور ظلم کے سامنے سر جھکانے کے بجائے ڈٹ کر کھڑا ہونا ہی حقیقی کامیابی ہے۔ اگر ہم کربلا کے اس آفاقی پیغام کو سمجھ لیں تو یقیناً ہمارا معاشرہ محبت، رواداری، انصاف اور بھائی چارے کا گہوارہ بن سکتا ہے۔
محفلِ کربلا کا یہی پیغام آج بھی زندہ ہے، اور یہی پیغام آنے والی نسلوں کے لیے روشنی کا مینار ہے۔