13

یادوں کی خوشبو، دوستی کا سفر اور وقت کی گواہی خصوصی تحریر: راجہ نورالٰہی عاطف

یادوں کی خوشبو، دوستی کا سفر اور وقت کی گواہی

خصوصی تحریر: راجہ نورالٰہی عاطف

زندگی کی تیز رفتار دوڑ میں انسان بہت کچھ حاصل کر لیتا ہے، مگر کچھ رشتے اور کچھ لمحے ایسے ہوتے ہیں جو وقت گزرنے کے باوجود دل کے کسی گوشے میں محفوظ رہتے ہیں۔ بچپن اور طالب علمی کے دن انہی قیمتی یادوں کا حصہ ہوتے ہیں جنہیں انسان عمر بھر نہیں بھلا پاتا۔ جب برسوں بعد وہی ساتھی، وہی چہرے اور وہی یادیں ایک جگہ جمع ہو جائیں تو گویا وقت تھم سا جاتا ہے اور ماضی حال کے آنگن میں اتر آتا ہے۔
گورنمنٹ ہائی سکول فار بوائز چن میں سیشن 2008ء کے میٹرک کے سابق طلبہ کی خصوصی نشست بھی ایک ایسا ہی یادگار اور دل کو چھو لینے والا اجتماع تھا، جس نے دوستی، محبت اور خلوص کی ایک خوبصورت مثال قائم کی۔ تقریباً اٹھارہ برس بعد ایک ہی کلاس کے ساتھی جب دوبارہ اکٹھے ہوئے تو ہر چہرے پر خوشی، جذبات اور اپنائیت کے رنگ نمایاں تھے۔ سکول کی عمارت، کلاس رومز اور وہی میدان سب کے لیے یادوں کے دریچے کھول رہے تھے۔
یہ حقیقت ہے کہ وقت انسانوں کو مختلف راستوں پر لے جاتا ہے۔ کوئی کاروبار میں کامیاب ہوتا ہے، کوئی سرکاری خدمات انجام دیتا ہے، کوئی بیرونِ ملک جا کر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منواتا ہے، مگر طالب علمی کے رشتے اپنی جگہ قائم رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ برسوں بعد ہونے والی اس ملاقات میں شریک دوست ایک دوسرے سے ایسے مل رہے تھے جیسے وقت نے ان کے درمیان کوئی فاصلہ پیدا ہی نہ کیا ہو۔
اس کامیاب اور تاریخی ملاپ کے پیچھے چیف آرگنائزرز رمیض حسن، ایم عاصم، عامر علی، نقیب، عرفان، عنصر اور ایم حیات سمیت دیگر دوستوں کی شب و روز محنت شامل تھی۔ انہوں نے نہ صرف اپنے ہم جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا بلکہ اس بات کا بھی عملی ثبوت دیا کہ اگر نیت خالص ہو تو وقت اور فاصلے رکاوٹ نہیں بنتے۔ ان کی کاوشوں نے ایک ایسی یادگار تقریب کو جنم دیا جو شرکاء کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہے گی۔
اس تقریب کا ایک خوبصورت پہلو یہ بھی تھا کہ شرکاء نے اپنی عملی زندگی کے تجربات، کامیابیاں اور جدوجہد کی داستانیں ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کیں۔ یہ محض ملاقات نہیں تھی بلکہ ایک ایسا موقع تھا جہاں ماضی کی یادوں کے ساتھ حال کی کامیابیاں اور مستقبل کی امیدیں بھی ایک دوسرے سے جڑتی دکھائی دیں۔ اس سے نوجوان نسل کے لیے بھی یہ پیغام سامنے آیا کہ دوستی صرف تعلیمی دور تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ زندگی بھر ایک دوسرے کے ساتھ رابطہ، تعاون اور خیرخواہی کا رشتہ قائم رہنا چاہیے۔
آج کے دور میں جہاں سوشل میڈیا نے رابطوں کو آسان بنا دیا ہے، وہاں حقیقی ملاقاتوں کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ ایک دوسرے کے سامنے بیٹھ کر گفتگو کرنا، ہنسنا، پرانی باتوں کو یاد کرنا اور خلوص کے ساتھ وقت گزارنا وہ خوشی دیتا ہے جو کسی ڈیجیٹل رابطے سے حاصل نہیں ہو سکتی۔ گورنمنٹ ہائی سکول فار بوائز چن کے سابق طلبہ کی یہ نشست اسی حقیقت کی خوبصورت عکاسی کرتی ہے۔
تقریب کے دوران بنائی گئی تصاویر اور ویڈیوز یقیناً آنے والے برسوں میں اس دن کی یاد تازہ کرتی رہیں گی۔ عشائیے کے دوران ہونے والی گفتگو، قہقہے اور دعائیں اس بات کا ثبوت تھیں کہ دوستی کا رشتہ وقت کے ساتھ کمزور نہیں ہوتا بلکہ مزید مضبوط ہو جاتا ہے۔ شرکاء نے ایک دوسرے کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا اور مستقبل میں بھی اس تعلق کو برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
بلاشبہ زندگی کے مصروف ترین ادوار میں ایسے اجتماعات انسان کو اپنی جڑوں سے جوڑتے ہیں۔ یہ احساس دلاتے ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں