23

غریب کی بیٹی کو اپنی بیٹی سمجھنے والا پنجاب پولیس کا افسر: چند روز قبل کا واقعہ ہے

غریب کی بیٹی کو اپنی بیٹی سمجھنے والا پنجاب پولیس کا افسر: چند روز قبل کا واقعہ ہے آر اے بازار راولپنڈی کے ایک غریب کی 15 سالہ بیٹی گھر لاپتہ ہو گئی غالبا یہ سکول گئی اور پھر واپس نہ آئی ۔ سارا دن تلاش کرنے کے بعد والد نے پولیس اسٹیشن میں جاکرمدد کی درخواست کی ، پولیس نے ابتدائی معلومات لے لیں اور مزدوری پیشہ شخص گھر واپس آگیا ، دستیاب معلومات کے مطابق پولیس نے کارروائی کا آغاز کیا تو ایک نکاح نامہ پولیس کو موصول ہوا ۔ پولیس نے والد کو تھانے بلایا اور بتایا کہ آپ کی بیٹی نے نکاح کر لیا ہے ہم کچھ نہیں کرسکتے ۔۔ والد حیران پریشان رونے پیٹنے لگا کہ اسکی بیٹی 2010 میں پیدا ہوئی اسکی عمر بمشکل ساڑھے پندرہ سال ہے پھر اسکا نکاح کیسے جائز ہے ۔ پتہ چلا کہ لڑکی کو اسکا دوست راولپنڈی سے لاہور لے گیا عدالت میں اس نے بیان دیا جو نکاح نامہ عدالت میں پیش کیا گیا اور جو راولپنڈی پولیس کو بھی موصول ہوا اس میں لڑکی کی عمر 19 سال درج کی گئی ہے جبکہ نادرا ریکارڈ میں لڑکی کی تاریخ پیدائش 2010 کی ہے ۔نکاح فارم میں گواہوں والے خانے خالی ہیں جبکہ نکاح خواں کا نام درج ہے جبکہ جو مہر لگی ہے وہ اس طرح لگائی گئی ہے کہ پتہ ہی نہیں چلتا لاہور کی کس یونین کونسل کے نکاح رجسٹرار کی مہر ہے ۔۔ ایک کم سن لڑکی کو بہلا پھسلا کر اس سے شادی کرنا قانون کی نظر میں جرم ہے اس حوالے سے مقامی صحافیوں نے ریڑھی بان مزدور سے ہمدردی کے طور پر اندر خانے پولیس حکام سے رجوع کیا اور بات ایس پی بابر ممتاز تک پہنچی تو حقائق کو مدنظر رکھ کر ایس پی بابر ممتاز نے مقامی تھانہ کے ایس ایچ او کو ہرصورت اس واقعہ کے ذمہ داروں، کم عمر بچی کے نام نہاد شوہر ۔ بوگس نکاح رجسٹر کرنے والے اور پڑھانے والوں کو بے نقاب کرنے کی ہدایت کی ہے ۔ یہی نہیں ایس پی بابر ممتاز نے ایس ایچ او کو یقین دہانی کروائی ہے کہ اس کیس کو پایہ تکمیل تک پہنچانے لڑکی کو واپس اسکے والدین کے حوالے کرنے اور ملزم یا ملزمان کو سزا دلوانے پر جتنی بھی خرچہ آئے گا وہ اپنی جیب سے ادا کریں گے ، غریب ریڑھی بان سے ایک روپیہ بھی نہ لیا جائے ۔۔۔۔۔۔ سیلوٹ ہے ایسے افسران کو جو کسی غریب اور کمزور کے دکھ درد کو اپنا سمجھ کر دل وجان سے اسکے ساتھ کھڑے ہو جاتے ہیں ۔۔۔ #fblifestyle

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں