عابدہ نذر — خدمتِ خلق، ادب اور سماجی شعور کی روشن مثال
خصوصی تحریر: راجہ نورالٰہی عاطف
معاشرے میں بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو اپنی عملی جدوجہد، مثبت کردار اور بے لوث خدمات کے باعث دوسروں کے لیے مثال بن جاتی ہیں۔ یہ شخصیات نہ صرف اپنے عمل سے لوگوں کے دل جیتتی ہیں بلکہ معاشرتی ترقی، انسانی خدمت اور فکری بیداری میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ سرگودھا کی معروف سماجی کارکن، ادیبہ اور شاعرہ عابدہ نذر بھی انہی قابلِ احترام شخصیات میں شامل ہیں جنہوں نے خدمتِ انسانیت، ادب اور سماجی شعور کے فروغ کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دے کر اپنی ایک منفرد شناخت قائم کی ہے۔
عابدہ نذر کا شمار ان خواتین میں ہوتا ہے جو معاشرے کے محروم اور کمزور طبقات کی فلاح و بہبود کے لیے عملی طور پر سرگرم رہتی ہیں۔ موجودہ دور میں جہاں خود غرضی اور مادیت پسندی کے رجحانات بڑھ رہے ہیں، وہاں عابدہ نذر جیسی شخصیات امید، ہمدردی اور اخوت کی روشن شمع بن کر معاشرے کو مثبت سمت عطا کر رہی ہیں۔ انہوں نے غریب، نادار اور ضرورت مند افراد کی مدد کو اپنی زندگی کا اہم مقصد بنایا اور ہمیشہ ایسے طبقات کی داد رسی کے لیے آگے بڑھ کر کردار ادا کیا۔
خواتین کی فلاح، سماجی آگاہی اور معاشرتی مسائل کے حل کے حوالے سے بھی ان کی خدمات قابلِ صد ستائش ولائق تحسین و آفرین ہیں۔ وہ مختلف سماجی اور فلاحی منصوبوں میں بھرپور شرکت کرتی ہیں اور معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے کے لیے مسلسل جدوجہد کر رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سرگودھا اور گردونواح میں انہیں عزت، احترام اور قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
عابدہ نذر کی شخصیت کا ایک اہم پہلو ان کی ادبی خدمات ہیں۔ وہ ایک باصلاحیت قلمکار، شاعرہ اور صاحبِ فکر ادیبہ ہیں۔ اردو اور پنجابی شاعری سے ان کی وابستگی ان کے ذوقِ ادب کی عکاس ہے۔ ان کی شاعری میں محبتِ انسانیت، معاشرتی شعور، اخلاقی اقدار اور زندگی کے مختلف پہلوؤں کی خوبصورت ترجمانی ملتی ہے۔ وہ صرف شاعری تک محدود نہیں بلکہ مضامین اور کالم نگاری کے ذریعے بھی اپنے خیالات اور مشاہدات کو قارئین تک پہنچاتی ہیں۔
ادب کسی بھی معاشرے کی فکری اور تہذیبی شناخت کا آئینہ دار ہوتا ہے اور عابدہ نذر نے اپنے قلم کے ذریعے معاشرتی اصلاح اور شعور بیدار کرنے کی قابلِ قدر کوشش کی ہے۔ وہ مختلف علمی، ادبی اور ثقافتی تقریبات میں شرکت کرتی ہیں اور ادب کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہتی ہیں۔ ان کی ادبی سرگرمیاں نوجوان نسل کو بھی مثبت سوچ اور تخلیقی صلاحیتوں کے اظہار کی ترغیب دیتی ہیں۔
انسانی خدمت اور ادبی سرگرمیوں کے اعتراف میں انہیں متعدد اعزازات سے نوازا جا چکا ہے، تاہم انور گوئندی گولڈ میڈل کا حصول ان کی خدمات کا ایک نمایاں اعتراف ہے۔ یہ اعزاز دراصل ان کی مسلسل محنت، خلوص اور معاشرے کے لیے بے لوث خدمات کا اعتراف ہے۔ انور گوئندی گولڈ میڈل نہ صرف عابدہ نذر کے لیے بلکہ پورے سرگودھا ڈویژن کے لیے باعثِ فخر ہے، کیونکہ اس سے خطے کی ایک ایسی شخصیت کو قومی سطح پر پذیرائی ملی جس نے انسانیت کی خدمت کو اپنا شعار بنایا۔
عابدہ نذر مختلف فلاحی اور سماجی تقریبات میں بھی بھرپور شرکت کرتی ہیں۔ خصوصاً نابینا افراد کی فلاح و بہبود کے لیے منعقدہ پروگراموں میں ان کی شرکت اور سفید چھڑیوں کی تقسیم جیسے فلاحی اقدامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ معاشرے کے ہر طبقے کی بہتری کے لیے سنجیدہ اور مخلصانہ کردار ادا کر رہی ہیں۔ ان کے نزدیک خدمتِ خلق محض ایک جذبہ نہیں بلکہ ایک عملی ذمہ داری ہے جسے وہ پوری لگن اور دیانت داری سے نبھا رہی ہیں۔
آج جب معاشرہ بے شمار سماجی، اخلاقی اور فکری چیلنجز سے دوچار ہے تو عابدہ نذر جیسی شخصیات امید اور حوصلے کی علامت بن کر سامنے آتی ہیں۔ ان کی زندگی ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ اگر اخلاص، محنت اور انسان دوستی کو اپنا شعار بنا لیا جائے تو محدود وسائل کے باوجود بھی معاشرے میں مثبت تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔
بلاشبہ عابدہ نذر ایک فعال سماجی کارکن، صاحبِ قلم ادیبہ، حساس شاعرہ اور انسان دوست شخصیت ہیں جنہوں نے خدمتِ خلق، سماجی بہبود، خواتین کی فلاح اور ادبی شعور کے فروغ میں گراں قدر خدمات سرانجام دی ہیں۔ ان کی شخصیت نئی نسل خصوصاً خواتین کے لیے ایک بہترین مثال ہے کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو معاشرے کی بہتری اور انسانیت کی خدمت کے لیے بروئے کار لائیں۔
اللہ تبارک و تعالیٰ کے حضور دعا ہے کہ وہ عابدہ نذر کو صحت، خوشی اور مزید کامیابیاں عطا فرمائے، انہیں اپنی مخلوق کی بے لوث خدمت کے جذبے سے ہمیشہ سرشار رکھے اور ان کی علمی، ادبی اور سماجی خدمات کا دائرہ مزید وسیع فرمائے۔ آمین۔