نجی شعبۂ تعلیم کے لیے بجٹ میں خصوصی فنڈز مختص کیے جائیں، جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا مطالبہ
سکھر ( ): جوائنٹ ایکشن کمیٹی آف پرائیویٹ اسکول ایسوسی ایشنز سندھ نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں نجی شعبۂ تعلیم کی ترقی، بہتری اور فروغ کے لیے علیحدہ اور خاطر خواہ فنڈز مختص کیے جائیں تاکہ ملک میں شرحِ خواندگی میں اضافہ اور معیاری تعلیم کا فروغ ممکن بنایا جا سکے۔
جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں بشیر احمد چنہ، علیم قریشی اور احسن حمید نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ نجی تعلیمی اداروں کے لیے مختص کی جانے والی رقم طلبہ، اساتذہ، تعلیمی سہولیات اور پسماندہ علاقوں میں قائم کم فیس والے نجی اسکولوں کی فلاح و بہبود پر خرچ کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں بین الاقوامی معیار کے مطابق تعلیم کے لیے کم از کم مجموعی قومی پیداوار (GDP) کا 4 سے 6 فیصد اور مجموعی سرکاری بجٹ کا 15 سے 20 فیصد مختص کریں تاکہ معیاری اور جامع تعلیم کے قومی اہداف حاصل کیے جا سکیں۔
رہنماؤں نے وفاقی بجٹ میں بیوٹی پارلر مصنوعات پر ٹیکس میں نرمی اور تعلیمی اسٹیشنری پر سیلز ٹیکس میں اضافے کی تجویز کو افسوسناک، غیر دانشمندانہ اور تعلیم دشمن اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایک ایسے وقت میں جب ملک لاکھوں آؤٹ آف اسکول بچوں، کم شرحِ خواندگی اور تعلیمی بحران جیسے سنگین مسائل سے دوچار ہے، حکومت کو تعلیم دوست پالیسیوں کو فروغ دینا چاہیے نہ کہ تعلیم کو مزید مہنگا بنانا چاہیے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ ملک میں تعلیمی ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے کتب، کاپیوں اور دیگر تعلیمی مقاصد کے لیے استعمال ہونے والی اسٹیشنری کو مکمل طور پر ٹیکس فری قرار دیا جائے تاکہ کم آمدنی اور متوسط طبقے کے والدین کے لیے بچوں کی تعلیم کا حصول آسان بنایا جا سکے۔
بیان میں کہا گیا کہ مہنگائی کے باعث کتب اور اسٹیشنری کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے جس سے والدین کے لیے تعلیمی اخراجات برداشت کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ اس صورتحال کے نتیجے میں نہ صرف اسکولوں میں داخلوں کی شرح متاثر ہو رہی ہے بلکہ ڈراپ آؤٹ اور آؤٹ آف اسکول بچوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہو رہا ہے، جو بالآخر چائلڈ لیبر جیسے مسائل کو جنم دے رہا ہے۔
جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے مزید کہا کہ جب حکومت مختلف شعبوں میں نجی شعبے کی شراکت داری کو فروغ دے رہی ہے تو نجی شعبۂ تعلیم کو بھی قومی تعلیمی ترقی کا اہم شراکت دار تسلیم کرتے ہوئے اس کی بہتری اور استحکام کے لیے مناسب وسائل اور مراعات فراہم کی جانی چاہئیں۔
جاری کردہ:
میڈیا کو آرڈینیٹر
جوائنٹ ایکشن کمیٹی آف پرائیویٹ اسکول ایسوسی ایشنز سندھ