9

میرپورخاص (شاھدمیمن) فہمیدہ لغاری کیس میں نئی پیش رفت، پی ایم ڈی سی نے وائس چانسلر کی اہلیت

میرپورخاص (شاھدمیمن) فہمیدہ لغاری کیس میں نئی پیش رفت، پی ایم ڈی سی نے وائس چانسلر کی اہلیت سے متعلق تفصیلات فراہم کردیں تفصیلات کے مطابق میڈیکل کی طالبہ فہمیدہ لغاری کے مبینہ ہراسانی کے بعد خودکشی کے کیس کی تحقیقات میں نئی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ڈی آئی جی میرپورخاص کی جانب سے تشکیل دی گئی تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ اور ایس ایس پی میرپورخاص سید فدا حسین شاہ نے ایک نجی میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ظفر تنویر کی تعلیمی اہلیت اور تقرری سے متعلق تفصیلات حاصل کر لی ہیں پولیس ذرائع کے مطابق پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) نے تحقیقاتی ٹیم کو فراہم کردہ تحریری جواب میں بتایا ہے کہ وائس چانسلر کے عہدے کے لیے مقرر کردہ بعض لازمی معیار اور شرائط موجود ہیں۔ پی ایم ڈی سی کے مطابق وائس چانسلر کے لیے تعلیمی و انتظامی صلاحیتوں کا مخصوص معیار درکار ہوتا ہے، جبکہ متعلقہ فرد کی اہلیت کا درجہ اس معیار سے کم قرار دیا گیا ہے پی ایم ڈی سی نے اپنے جواب میں مزید وضاحت کی کہ میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے لیے ایم بی بی ایس، متعلقہ شعبے میں اعلیٰ پیشہ ورانہ قابلیت، پی ایچ ڈی، تدریسی اور انتظامی تجربہ سمیت دیگر شرائط کا پورا ہونا ضروری ہے۔ ساتھ ہی پی ایم ڈی سی اور ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) سے منظور شدہ تحقیقی جرائد میں مطلوبہ تعداد میں تحقیقی مقالات کی اشاعت بھی لازمی قرار دی گئی ہے اس پیش رفت کے بعد ایس ایس پی میرپورخاص سید فدا حسین شاہ نے یونیورسٹی کے چانسلر کو خط ارسال کرتے ہوئے وائس چانسلر کی تقرری، تعلیمی اسناد اور دیگر متعلقہ دستاویزات کی تفصیلات طلب کر لی ہیں اپنے دفتر میں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے ایس ایس پی سید فدا حسین شاہ نے کہا کہ تحقیقات شفاف انداز میں جاری ہیں اور کیس کا حتمی چالان ابھی عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ فرانزک رپورٹس موصول ہونے کے بعد حتمی چالان جمع کرایا جائے گا، جبکہ دورانِ تفتیش سامنے آنے والے تمام شواہد اور حقائق بھی چالان کا حصہ بنائے جائیں گے انہوں نے مزید کہا کہ فہمیدہ لغاری کے ورثا سے مسلسل رابطہ رکھا جا رہا ہے اور تحقیقات کو ہر پہلو سے آگے بڑھایا جا رہا ہے دوسری جانب فہمیدہ لغاری کے والد اور مقدمے کے مدعی افتخار حسین لغاری سمیت دیگر ورثا نے اس پیش رفت کو اہم قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ یونیورسٹی اور اس سے منسلک اداروں میں تعینات تدریسی و انتظامی عملے کی اہلیت اور تقرریوں کی بھی جامع تحقیقات کرائی جائیں تاکہ حقائق عوام کے سامنے آسکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں