*انتخاب ،،، مطلوب حسن* آپ بیرون ملک چلے جائیں آپ کو کہیں بھی لکھا نہیں ملے گا کہ
*انتخاب ،،، مطلوب حسن*
آپ بیرون ملک چلے جائیں
آپ کو کہیں بھی لکھا نہیں ملے گا
کہ
خالص دودھ
خالص گھی
خالص شہد
خالص اجزاء سے تیار فلاں چیز
خالص تانبا
خالص آٹا.
یا
سو فیصد خالص انار کا جوس.
وغیرہ وغیرہ.
وہاں لفظ خالص کا تصور خالص تک ہی ہے وہاں ان چیزوں میں ملاوٹ کا تصور موجود ہی نہیں کہ بھلا ان میں بھی ملاوٹ کی جاسکتی ہے
وہ اپنی برانڈز کے نام
یروشلم کی کسی عبادت گاہ.
یا
روم کے کسی چرچ کے نام پر بھی نہیں رکھتے کہ
مذہبی جذبات کا فائدہ اٹھا کر زیادہ سے زیادہ منافع کما پائیں
وہ اقوام اپنی چیزوں کو بہتر سے
مزید بہتر کر کے مارکیٹ میں
لاکر ایمانداری سے زیادہ سے زیادہ
بِکری چاہتے ہیں
اور
ہمارے ہاں انداز ہی نرالہ ہے
اسلامی شہد
مدنی گھی
مکی آٹا
وغیرہ
اور
مزید اضافہ کہ
”سو فیصد خالص”
ارے بھائی یہ خالص لکھنے کی نوبت ہی کیوں پیش آئی ؟
کیوں کہ !
یہاں ہر طرف مکاری ہے
جھوٹ فریب ملاوٹ ہے
دین کو استعمال کر کے شہرت کماتے ہیں پیسہ کماتے ہیں
*جس نے ملاوٹ کی وہ ہم میں سے نہیں*(الحدیث)
اللّٰہ پاک ہمیں ہدایت نصیب فرمائے آمین ثم آمین 🤲