27

آج کوئٹہ کے سنڈیمن سول ہسپتال میں ایک تیزا۔ب گر۔دی کا واقعہ پیش آیا ہے۔ ڈاکٹر ماہ نور ناصر ہسپتال کے شعبہ جنرل سرجری میں ڈیوٹی پر تھیں کہ ایک شخص نے انہیں تیزا۔ب گرد۔ی کا نشانہ بنایا

آج کوئٹہ کے سنڈیمن سول ہسپتال میں ایک تیزا۔ب گر۔دی کا واقعہ پیش آیا ہے۔ ڈاکٹر ماہ نور ناصر ہسپتال کے شعبہ جنرل سرجری میں ڈیوٹی پر تھیں کہ ایک شخص نے انہیں تیزا۔ب گرد۔ی کا نشانہ بنایا۔ واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں ملزم دروازے پر دستک دیتا ہے اور دروازہ کھلتے ہی بوتل میں موجود تیزاب پھینک کر فرار ہوجاتا ہے۔۔ اس کے بعد والے مناظر دیکھے نہیں جارہے۔۔۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہ گھناؤنی حرکت ہسپتال کے لفٹ آپریٹر نے کی ہے۔

ماہ نور ناصر کوئی اجنبی نہیں تھیں۔ یہ پاکستان کی وہ بیٹی تھی جس نے اس سرزمین پر پڑھ کر سخت محنت کر کے ڈاکٹری کی سند حاصل کی اور پھر اسی دھرتی کے لوگوں کی خدمت کو اپنا فرض سمجھا۔ وہ جانتی تھی کہ بلوچستان میں خواتین ڈاکٹروں کی کتنی کمی ہے اور وہ یہ بھی جانتی ہوں گی کہ یہ کمی کیوں ہے؟ شاید اسی لیے وہ رکی۔۔۔ وہاں جہاں رہنا آسان نہیں۔۔۔ کسی بھی وقت کچھ بھی ہوسکتا ہے!

زخمی خاتون ڈاکٹر کو مزید علاج کے لیے ائیر ایمبولینس کے ذریعے کراچی منتقل کیا گیا۔۔۔ کئی وزراء نے بیانات جاری کیے لیکن یہ سرکاری بیانات آتے ہیں۔۔ رپورٹیں طلب کی جاتی ہیں۔۔ مذمتیں ریکارڈ ہوتی ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ اگلی ماہ نور کو بچانے کے لیے کیا بدلے گا؟

تیزاب سے جھلسا چہرہ واپس نہیں آتا۔۔۔ تیزا۔ب گرد۔ی کے شکار ایسے کئی متاثرین ہیں جو مر مر کے زندگی جی رہے ہوتے ہیں۔۔ ہمارے ہاں بیٹی کو جنم دینا، پالنا، پڑھانا اور پھر اسے کام کاج پر بھیجنا۔۔۔ ہر قدم ایک امتحان ہے۔۔

افسوس کہ جو معاشرہ اپنے ہسپتالوں میں اپنے ڈاکٹروں کو محفوظ نہ رکھ سکے اسے علاج کی نہیں بلکہ آئینے کی ضرورت ہے۔۔۔ اور بلوچستان کو اس آئینے کی اشد ضرورت ہے۔۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں