*63 اے نظرثانی میں پھڈا پڑ گیا* جسٹس منیب اختر آئے نہیں چیف جسٹس نے کل دوبارہ نئے ممبر کو شامل کر نیا. بنچ تشکیل دینے کا کہہ دیا بیرسٹر علی ظفر نے دو رکنی کمیٹی پر اعتراض اٹھا دیا
*63 اے نظرثانی میں پھڈا پڑ گیا*
جسٹس منیب اختر آئے نہیں چیف جسٹس نے کل دوبارہ نئے ممبر کو شامل کر نیا. بنچ تشکیل دینے کا کہہ دیا بیرسٹر علی ظفر نے دو رکنی کمیٹی پر اعتراض اٹھا دیا
قاضی نے نیا بنچ تشکیل دینے کا عندیہ دے دیا۔۔
“لیکن منیب اختر کا بنچ میں شامل ہونا لازم ہے۔۔ کیونکہ قانون نے مطابق جس بنچ نے کیس کا فیصلہ دیا۔۔ نظر ثانی اپیل میں وہی بنچ ہوتا ہے۔۔
گر ان میں سے کوئی ججز ریٹائرڈ ہوچکا۔۔ تو اسکی جگہ کوئی دوسرا جج بیٹھے گا۔۔ لیکن اگر کوئی جج حاضر سروس ہے۔۔ تو اسکو بنچ میں بٹھانا لازم ہے۔۔
“پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی میں ایک جج نہ آئے تو دو جج اس پر فیصلہ نہیں کر سکتے۔۔ کمیٹی مکمل نہیں تو پھر فل کورٹ کو فیصلہ کرنا چاہیے””۔
*سینیٹر سید علی ظفر*