*درود شریف کے مسائل و فضائل* قسط دوئم پیر 30 ستمبر 2024 انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
*درود شریف کے مسائل و فضائل*
قسط دوئم
پیر 30 ستمبر 2024
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
(طبع اؤل ستمبر 2018)
بسم الله الرحمن الرحيم
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
(3) *درود کی فضیلت*
چند احادیث ،،،،
عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رضي الله عنه قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أُكْثِرُ الصَّلَاةَ عَلَيْكَ فَكَمْ أَجْعَلُ لَكَ مِنْ صَلَاتِي ؟ فَقَالَ : مَا شِئْتَ . قَالَ قُلْتُ الرُبُعَ ؟ قَالَ : مَا شِئْتَ فَإِنْ زِدْتَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ . قُلْتُ النِّصْفَ ؟ قَالَ : مَا شِئْتَ فَإِنْ زِدْتَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ . قَالَ قُلْتُ فَالثُّلُثَيْنِ ؟ قَالَ : مَا شِئْتَ فَإِنْ زِدْتَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ . قُلْتُ أَجْعَلُ لَكَ صَلَاتِي كُلَّهَا ؟ قَالَ : إِذًا تُكْفَى هَمَّكَ وَيُغْفَرُ لَكَ ذَنْبُكَ .(صحیح الترغیب:1670)
ترجمہ: حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا:
اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں آپ پر زیادہ درود پڑھتا ہوں ، تو آپ کا کیا خیال ہے کہ میں آپ پر کتنا درود پڑھوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے کہا : چوتھا حصہ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جتنا چاہواور اگر اس سے زیادہ پڑھو گے تو وہ تمہارے لئے بہتر ہے۔ میں نے کہا : آدھا حصہ ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :جتنا چاہو اور اگر اس سے زیادہ پڑھو گے تو وہ تمہارے لئے بہتر ہے۔ میں نے کہا : دو تہائی ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :جتنا چاہو اور اگر اس سے زیادہ پڑھو گے تو وہ تمہارے لئے بہتر ہے۔میں نے کہا : میں آپ پر درود ہی پڑھتا رہوں تو ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تب تمھیں تمھاری پریشانی سے بچا لیا جائے گا اور تمھارے گناہ معاف کر دئیے جائیں گے۔
فمَنْ كان أكثرَهُمْ عليَّ صَلاةً ، كان أَقْرَبَهُمْ مِنِّي مَنْزِلَةً ( صحيح الترغيب:1673)
ترجمہ: قیامت کے دن لوگوں میں سے سب سے زیادہ میرے قریب وہ ہو گا جو سب سے زیادہ مجھ پر درود بھیجے گا۔
من صلَّى عليَّ واحدةً ، صلَّى اللهُ عليه عشرَ صلواتٍ ، و حطَّ عنه عشرَ خطيئاتٍ ، و رفعَ له عشرَ درجاتٍ(صحيح الجامع:6359)
ترجمہ: جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے ، اس کے دس گناہ مٹا دیتا ہے اور اس کے دس درجات بلند کردیتا ہے۔
اس کے برعکس جو نبی ﷺ کا نام آنے پردرود نہیں پڑھتا اسے بخیل کہا گیا ہے ۔
البخيلُ الَّذي مَن ذُكِرتُ عندَهُ فلم يصلِّ عليَّ(صحيح الترمذي:3546)
ترجمہ: بخیل وہ ہے جس کے سامنے میرا ذکر ہوا اس نے مجھ پہ درود نہ پڑھا۔
بخاری کی حدیث میں ذکر ہے جبریل علیہ السلام نے نبی ﷺ نام کا سننے پہ درود نہ پڑھنے والوں کے حق میں بد دعاء کی تو آپ ﷺ نے منبر پہ آمین کہی۔
(4) *درود وسلام کے افضل صیغے:*
ابن ابی لیلہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ مجھ سے کعب بن عجرہ نے ملاقات کی اور کہا کیا میں تمہیں ہدیہ نہ کروں: رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس آئے تو ہم نے کہا کہ سلام کیسے کریں ہمیں معلوم ہوگیا مگر آپ پر درود کیسے بھیجیں گے؟ تو آپ ﷺ نے فرماہا: تم کہو:
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ(بخاري:3119 و مسلم :614)
تفصیل کے لئے علامہ البانی کی صفۃ صلاۃ النبی دیکھیں ۔
(5) *درود کے ساتھ سلام پڑھنا:*
نبی ﷺ پر درود بھیجتے وقت سلام کا بھی اضافہ کرنا چاہئے تاکہ درود کے ساتھ سلام بھی جمع ہوجائے اور یہ اللہ تعالی كاحکم بھی ہے ۔اس لئے درود ابراہیمی کا اہتمام کریں جس میں درود وسلام موجود ہے اور جسے خود نبی ﷺ نے پڑھنے کی تعلیم دی هے ۔ نماز سے باہر بھی ذکر نبی ﷺ پہ کم از کم کہے
“صلی اللہ علیہ والہ وسلم” ۔
(6) *درود وسلام کے مواقع:*
بعض جگہ درودوسلام کہنا واجب هے، ان میں آخری تشہد هے۔ اس کے علاوہ وجوب کے متعلق اختلاف هے تاہم یہ ضرور کہوں گا کہ یہ نبی ﷺ کے حقوق میں سے ہےجہاں جہاں پڑھنے کا حکم ملاهے وہاں پڑھنا چاہئے۔
*وہ مقامات یہ ہیں:*
جمعہ کے دن بکثرت،نبی ﷺ کا ذکر کرنے، سننےیا لکھنے کے وقت، اذان کے بعد،مسجد میں داخل ہوتےاور نکلتے وقت،
نمازجنازہ کی دوسری تکبیر پہ، خطبات یعنی عیدین و جمعہ اوراستسقاء وغیرہ کے وقت، دعاکرتے وقت، ہرمجلس میں جدا هونے سے پہلےاور دعائےقنوت کے آخرمیں وغیرہ۔
*درود شریف*
اللَّهُمّ صَلى علَى مُحمَّدْ
وعلَى آل مُحمَّدْ كماصَلٌيت
علَى إِبْرَاهِيمَ وعلَى آل إِبْرَاهِيمَ إِنَّك حَمِيدٌ مَجِيدٌ
اللَّهُمّ بارك علَى مُحمَّدْ وعلَى آل مُحمَّدْ كما باركت علَى إِبْرَاهِيمَ و علَى آل إِبْرَاهِيمَ إِنَّك حَمِيدٌ مَجِيدٌ
Please visit us at www.nazirmalik.com
Cell:00923008604333