10

کندھکوٹ کا پریمی جوڑا جان کے خوف سے سکھر پریس کلب پہنچ گیا ’ہم نے باہمی رضامندی سے شادی کی، اپنے ہی رشتہ دار جان کے دشمن بن گئے‘

کندھکوٹ کا پریمی جوڑا جان کے خوف سے سکھر پریس کلب پہنچ گیا ’ہم نے باہمی رضامندی سے شادی کی، اپنے ہی رشتہ دار جان کے دشمن بن گئے‘

سکھر(بیورورپورٹ)کندھکوٹ سے تعلق رکھنے والے ایک مبینہ پریمی جوڑے نے جان کے شدید خطرات کے پیش نظر سکھر پریس کلب پہنچ کر میڈیا کے سامنے تحفظ کی اپیل کی ہے۔پریس کلب میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محمد اکرم ولد محمد سلیم لکھن اور ان کی اہلیہ مہک ولد سوداگر ملک نے بتایا کہ انہوں نے 22 مئی کو باہمی رضامندی سے سکھر سیشن کورٹ میں قانونی طور پر پسند کی شادی کی ہے اور اب وہ اپنے علاقے کندھکوٹ میں پرامن زندگی گزارنا چاہتے ہیں، تاہم مہک ملک کے ماموں، بھائی اور قریبی رشتہ داروں کی جانب سے انہیں مسلسل ہراساں کیا جا رہا ہے اور جان سے مار دینے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔مہک ملک نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ان کے اہل خانہ نے نہ صرف ان کے شوہر اور سسرالی رشتہ داروں کے خلاف اغواء کی جھوٹی ایف آئی آر درج کروائی، حالانکہ نہ انہیں کسی نے اغواء کیا اور نہ ہی ان افراد کا اس معاملے سے کوئی تعلق ہے۔مہک ملک کا کہنا تھا کہ وہ اپنی مرضی سے گھر سے نکلی تھیں اور محمد اکرم لکھن سے عدالت میں نکاح کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے والد سوداگر ملک،ماموں، بھائی اور رشتہ دار جن میں آصف شہزاد، عامر شہزاد، محسن رضا عرف سنی سمیت دیگر افراد شامل ہیں، انہیں مسلسل ہراساں کر رہے ہیں اور قتل کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔پریس کلب میں گفتگو کرتے ہوئے مہک ملک نے کہا:”میرے بھائی اور رشتہ دار ہماری جان کے دشمن بنے ہوئے ہیں۔ ہم نے عدالت میں اپنی مرضی سے شادی کی ہے لیکن ہمارے اپنے والدین اور رشتہ دار ہمیں نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔”محمد اکرم لکھن نے میڈیا کو بتایا کہ وہ اور مہک ملک ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے، اسی لیے انہوں نے قانونی طریقے سے شادی کی۔ ان کے مطابق مہک ملک کے ماموں اور بھائی اس شادی سے ناخوش ہیں اور انہیں خدشہ ہے کہ وہ کسی بھی وقت ان کے خلاف خطرناک قدم اٹھا سکتے ہیں۔ محمد اکرم لکھن کا کہنا تھا کہ مہک ملک نے اپنی مرضی سے گھر سے نکل کر ان سے شادی کی، جس کے بعد مہک ملک کے ماموں اور بھائی نے جھوٹا اغواء کا الزام لگایا ۔جوڑے نے اعلیٰ حکام سے اپیل کی کہ انہیں فوری طور پر قانونی تحفظ فراہم کیا جائے اور اغواء کے جھوٹے مقدمے کو ختم کیا جائے۔ تاکہ وہ پرامن زندگی گزار سکیں۔پریمی جوڑے نے مطالبہ کیا کہ ان کا بیان ریکارڈ پر لیا جائے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی صورت میں ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی ممکن بنائی جا سکے۔اس موقع پر جوڑے نے چیف جسٹس آف پاکستان، وزیراعلیٰ سندھ اور آئی جی سندھ سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری اقدامات کرتے ہوئے ان کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔ جوڑے کا کہنا تھا کہ اگر انہیں بروقت تحفظ فراہم نہ کیا گیا تو انہیں کسی بھی وقت قتل کیے جانے کا خدشہ ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں