13

احتیاط علاج سے بہتر ہے) عوام کو ہیٹ ویو (HEATWAVE) سے بچانے کے لیے سندھ حکومت کے اقدامات تحریر: اعجاز علی تیوڻو / نوابشاہ

(احتیاط علاج سے بہتر ہے)

عوام کو ہیٹ ویو (HEATWAVE) سے بچانے کے لیے سندھ حکومت کے اقدامات

تحریر: اعجاز علی تیوڻو / نوابشاہ

گزشتہ چند برسوں سے پاکستان خصوصاً سندھ میں درجہ حرارت مسلسل بڑھ رہا ہے، جس کے باعث ہیٹ اسٹروک کے متعدد کیسز سامنے آئے ہیں۔ محکمہ موسمیات کے مطابق رواں سال بھی گرمی کی شدت میں دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے، جس کے سبب گرمی لگنے کے واقعات عام ہو رہے ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف انسانی صحت بلکہ زندگی کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔40 ڈگری سینٹی گریڈ سے زائد درجہ حرارت میں احتیاطی تدابیر اختیار نہ کرنا جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔ انسانی جسم کا نارمل درجہ حرارت 37 ڈگری سینٹی گریڈ ہوتا ہے، لیکن اگر کوئی شخص ایسے ماحول میں کام کرے جہاں درجہ حرارت 40 سے 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک ہو تو جسمانی درجہ حرارت بھی بڑھنے لگتا ہے اور جسم کا کولنگ سسٹم متاثر ہو جاتا ہے۔ جب جسم کا درجہ حرارت 42 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچتا ہے تو خون گرم ہونا شروع ہو جاتا ہے، خون میں موجود پروٹین متاثر ہوتے ہیں اور سانس لینے میں دشواری پیدا ہونے لگتی ہے۔جسم میں پانی کی کمی کے باعث خون گاڑھا ہو جاتا ہے، بلڈ پریشر کم ہو جاتا ہے اور دماغ تک خون کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے۔ جسم فوری طور پر پسینہ خارج کرتا ہے تاکہ درجہ حرارت کو 37 ڈگری سینٹی گریڈ تک برقرار رکھا جا سکے، لیکن یہ اسی صورت ممکن ہے جب جسم میں پانی کی مناسب مقدار موجود ہو۔ جیسے جیسے جسم میں پانی کم ہوتا جاتا ہے ویسے ویسے جسمانی درجہ حرارت بڑھتا جاتا ہے اور انسان ہیٹ اسٹروک کا شکار ہو جاتا ہے۔ہیٹ ویو اور ہیٹ اسٹروک کی بڑی وجوہات میں شدید گرمی میں جسمانی مشقت کرنا، دھوپ میں زیادہ دیر رہنا، پانی کم پینا، سر ڈھانپے بغیر باہر نکلنا، غیر ضروری گرم کپڑے پہننا اور شدید گرمی سے آتے ہی فوراً نہانا شامل ہیں۔ہیٹ ویو کی علامات میں اچانک شدید سر درد، آنکھوں کے آگے اندھیرا چھانا، چکر آنا، قے، سانس لینے میں دشواری، زیادہ پسینہ آنا، شدید کمزوری، بے ہوشی، دل کی دھڑکن تیز ہونا، چہرے کا گرم، سرخ یا خشک ہو جانا اور تیز بخار شامل ہیں۔اگر کسی شخص کو گرمی لگ جائے تو فوری طور پر اسے گرم جگہ سے ٹھنڈی جگہ منتقل کیا جائے، اس کی ٹانگیں جسم سے کچھ اونچی رکھی جائیں، ٹھنڈا پانی پلایا جائے، کپڑوں کے بٹن کھول دیے جائیں، اضافی اور گرم کپڑے اتار دیے جائیں جبکہ جوتے، ٹائی اور شرٹ بھی ڈھیلی یا اتار دی جائے۔ طبیعت بہتر ہونے کے بعد نہلایا جائے اور ضرورت پڑنے پر اسپتال منتقل کیا جائے۔ہیٹ اسٹروک سے بچاؤ کا واحد حل احتیاط ہے۔ اس کے لیے زیادہ سے زیادہ پانی استعمال کیا جائے جبکہ صحت کے لیے نقصان دہ نشہ آور اشیاء اور کولڈ ڈرنکس سے پرہیز کیا جائے۔ اگر مجبوری میں دھوپ میں جانا پڑے تو سر کو ڈھانپ کر رکھا جائے، چھتری استعمال کی جائے، دھوپ سے واپس آتے ہی فوراً اے سی کے نیچے نہ بیٹھا جائے، جسمانی مشقت والے کام صبح یا شام کے اوقات میں کیے جائیں جبکہ گرمی کے موسم میں سلاد، سبزیاں اور ٹھنڈی غذاؤں کا زیادہ استعمال کیا جائے۔

محکمہ موسمیات کی جانب سے ملک خصوصاً سندھ میں شدید گرمی کی پیشگوئی کے بعد سندھ حکومت کی ہدایات پر ضلعی انتظامیہ نے روینیو اور ٹاؤن انتظامیہ کے تعاون سے چھوٹے بڑے شہروں میں ٹھنڈے پانی کی سبیلیں قائم کی ہیں۔ اس کے علاوہ تمام بنیادی مراکز صحت اور اسپتالوں میں ہیٹ اسٹروک وارڈ قائم کیے گئے ہیں جہاں ادویات کی دستیابی، ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل اسٹاف کی تعیناتی کو یقینی بنایا گیا ہے۔عوام کو گرمی سے بچاؤ کے لیے پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کے ذریعے بھی آگاہی فراہم کی جا رہی ہے تاکہ شدید گرمی کے باعث قیمتی انسانی جانوں کو بچایا جا سکے کیونکہ انسانی زندگی کا کوئی نعم البدل نہیں۔میری نظر میں ہمارے ملک میں بڑھتی ہوئی گرمی کی ایک بڑی وجہ درختوں کی کمی ہے۔ اگر آنے والے برسوں میں شجرکاری نہ کی گئی تو درجہ حرارت مزید بڑھ سکتا ہے جو انسانوں اور جانوروں دونوں کے لیے خطرناک ثابت ہوگا۔ گرمی کے اثرات کم کرنے کا مؤثر حل شجرکاری مہم ہے۔ اس سے نہ صرف ملک سرسبز ہوگا بلکہ درجہ حرارت میں بھی کمی آئے گی۔عوام سے اپیل ہے کہ گرمی کے موسم میں ہیٹ ویو سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کریں، دوسروں میں بھی آگاہی پیدا کریں اور ملک میں درجہ حرارت کم کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ درخت لگانے اور ان کی دیکھ بھال میں حکومت کا ساتھ دیں۔

(ختم شد)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں