*حجِ بیت اللہ کی تاریخ*
منگل 19 مئی 2026
تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
قرآنِ مجید، احادیثِ نبویہ، آثارِ صحابہ اور تاریخِ عالم کی روشنی میں:
حج اسلام کے عظیم ترین ارکان میں سے ایک ہے۔ یہ صرف ایک عبادت نہیں بلکہ توحید، اطاعت، قربانی، اتحادِ امت اور سنتِ ابراہیمی کی زندہ یادگار ہے۔ حج کی تاریخ انسانی تاریخ جتنی قدیم ہے اور اس کی بنیاد حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت ابراہیم علیہ السلام، پھر خاتم النبیین محمد رسول اللہ ﷺ تک مسلسل چلی آ رہی ہے۔
بیت اللہ کی ابتدا
حضرت آدم علیہ السلام اور بیت اللہ:
بعض مفسرین اور مؤرخین کے مطابق روئے زمین پر اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لئے سب سے پہلا گھر بیت اللہ تھا۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے:
إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكًا وَهُدًى لِّلْعَالَمِينَ
“بیشک سب سے پہلا گھر جو لوگوں کے لئے مقرر کیا گیا وہی ہے جو مکہ میں ہے، بابرکت اور جہانوں کے لئے ہدایت ہے۔”
(سورۂ آل عمران 3:96)
بعض آثار میں آتا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام نے بیت اللہ کی بنیاد رکھی، پھر طوفانِ نوح کے زمانہ میں اس کے آثار مٹ گئے۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام اور تعمیرِ کعبہ:
حج کی موجودہ تاریخ کا اصل تعلق حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم دیا کہ اپنی اہلیہ حضرت ہاجرہؑ اور شیر خوار بیٹے حضرت اسماعیلؑ کو مکہ کی بے آب و گیاہ وادی میں چھوڑ آئیں۔
زمزم کا معجزہ:
جب پانی ختم ہوا تو حضرت ہاجرہؑ صفا اور مروہ کے درمیان دوڑیں۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت اسماعیلؑ کے قدموں کے نیچے سے زمزم جاری فرما دیا۔ یہی واقعہ آج سعی کی صورت میں حج و عمرہ کا حصہ ہے۔
کعبہ کی تعمیر:
جب حضرت اسماعیل علیہ السلام بڑے ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو کعبہ کی تعمیر کا حکم دیا۔
قرآن مجید میں ہے:
وَإِذْ يَرْفَعُ إِبْرَاهِيمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَيْتِ وَإِسْمَاعِيلُ
“اور جب ابراہیم اور اسماعیل بیت اللہ کی بنیادیں اٹھا رہے تھے۔”
— سورۂ البقرہ 2:127
اسی وقت دونوں نے دعا کی: رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا
“اے ہمارے رب! ہم سے یہ خدمت قبول فرما۔”
حج کا اعلان:
کعبہ کی تعمیر کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حکم دیا:
وَأَذِّن فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ يَأْتُوكَ رِجَالًا وَعَلَىٰ كُلِّ ضَامِرٍ
“لوگوں میں حج کا اعلان کر دو، وہ آپ کے پاس پیدل اور دبلے اونٹوں پر دور دراز راستوں سے آئیں گے۔”
( سورۂ الحج 22:27)
یہی اعلانِ ابراہیمی آج تک جاری ہے اور دنیا بھر کے مسلمان لبیک کہتے ہوئے مکہ پہنچتے ہیں۔
دورِ جاہلیت میں حج:
عرب مشرکین حضرت ابراہیمؑ کے دین سے بہت سی چیزیں بدل چکے تھے، مگر حج کی بعض نشانیاں باقی تھیں:
طوافِ کعبہ
عرفات میں وقوف، قربانی، تلبیہ
لیکن انہوں نے:
بت پرستی شامل کر دی
ننگے طواف شروع کر دیے
شرکیہ تلبیہ پڑھنا شروع کیا
رسول اللہ ﷺ اور حج
فرضیتِ حج:
ہجرت کے بعد 9 ہجری میں حج فرض ہوا۔ قرآن میں ارشاد ہے:
وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا
“اور اللہ کے لئے لوگوں پر اس گھر کا حج فرض ہے جو وہاں پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو۔”
( سورۂ آل عمران 3:97)
حجۃ الوداع:
رسول اللہ ﷺ نے اپنی زندگی میں ایک مکمل حج ادا فرمایا جو 10 ہجری میں ہوا اور “حجۃ الوداع” کہلاتا ہے۔ اس حج کی اہم خصوصیات، ایک لاکھ سے زائد صحابہؓ شریک ہوئے
آپ ﷺ نے جاہلیت کے رسم و رواج ختم فرمائے مساواتِ انسانی کا اعلان فرمایا
عورتوں کے حقوق بیان فرمائے اور سود کو حرام قرار دیا
خطبۂ حجۃ الوداع
آپ ﷺ نے فرمایا:
“لوگو! تمہارا رب ایک ہے اور تمہارا باپ ایک ہے، کسی عربی کو عجمی پر اور کسی گورے کو کالے پر فضیلت نہیں مگر تقویٰ سے۔”
(مسند احمد)
حج کے ارکان
احادیثِ نبویہ کی روشنی میں حج کے بڑے اعمال:
احرام, طواف, سعی
وقوفِ عرفات, مزدلفہ میں قیام, رمیِ جمرات, قربانی
حلق یا قصر;
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “مجھ سے اپنے حج کے طریقے سیکھ لو۔”
(صحیح مسلم)
آثارِ صحابہ میں حج;
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم حج کو عظیم عبادت سمجھتے تھے۔
عبد اللہ بن عمر:
حضرت ابن عمرؓ سنت کے مطابق حج ادا کرنے میں انتہائی محتاط تھے اور ہر اس جگہ قیام کرتے جہاں رسول اللہ ﷺ نے قیام فرمایا تھا۔
عبد اللہ بن عباس:
آپؓ کو “ترجمان القرآن” کہا جاتا تھا اور حج کے مسائل میں آپؓ کی آراء بہت مشہور ہیں۔
تاریخِ عالم میں حج کی اہمیت.:
حج صدیوں سے عالم اسلام کے اتحاد کا مرکز رہا ہے۔
مختلف زبانیں
مختلف نسلیں
مختلف ممالک
سب ایک لباس (احرام) میں اللہ کے سامنے حاضر ہوتے ہیں۔
یہ دنیا کا سب سے بڑا سالانہ مذہبی اجتماع شمار ہوتا ہے۔
خلافتِ اسلامیہ اور حج:
خلفائے راشدین، بنو امیہ، بنو عباس، عثمانی خلافت اور موجودہ ادوار میں حجاج کی خدمت کو بڑی سعادت سمجھا گیا۔
راستے بنائے گئے، کنویں کھودے گئے، قافلے منظم ہوئے اور حرمین کی توسیع کی گئی۔
حج کا روحانی پیغام:
حج انسان کو یاد دلاتا ہے:
اللہ کے سامنے سب برابر ہیں
دنیا عارضی ہے
قیامت کا دن آئے گا
قربانی اور اطاعت ہی کامیابی ہے:
احرام کفن کی یاد دلاتا ہے، میدانِ عرفات حشر کا منظر پیش کرتا ہے اور طواف بندگی و محبت کی علامت ہے۔
*فضیلتِ حج*
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “جس نے اللہ کے لئے حج کیا، پھر نہ فحش بات کی اور نہ گناہ کیا، وہ ایسے لوٹتا ہے جیسے آج ہی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہو۔”
ایک اور حدیث میں فرمایا: “حج مبرور کا بدلہ جنت کے سوا کچھ نہیں۔”
خلاصہ
حج بیت اللہ:
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت انبیاءِ کرام کی یادگار
امتِ مسلمہ کے اتحاد کی علامت اور اسلام کی عظیم عبادت ہے۔
قرآن، سنت، آثارِ صحابہ اور پوری اسلامی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ بیت اللہ مرکزِ توحید ہے اور قیامت تک مسلمانوں کے دل اسی کی طرف کھنچے چلے آئیں گے۔
الدعاء
یا اللہ تعالی حج بیت اللہ کی سعادت اور زیارات مقدسہ نصیب فرما۔
آمین یا رب العالمین
Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333