تم سراج کو بچا لو ، میں کہیں نہیں بھاگتا پھر آکر مجھے مار ڈالنا ۔۔۔ زین کے آخری جملے ۔۔۔ عینی شاہد اور واقعہ کی گواہ زین کی والدہ کے بیان نے اب تک کے سارے سچ جھوٹ ثابت کردیے۔۔۔ اللہ ہی جانے سچ کیا ہے ۔۔۔ زین کی والدہ کے بقول ۔۔۔ معاملہ 1300 روپے کا تھا ، زین اور سراج کا دکان پر جھگڑا ہوا تو میں بھی شور سن کر گئی اور معاملہ رفع دفع کرایا مگر سراج نے ہر طرف فون کر ڈالے گھر آکر میرے کہنے پر زین نے 1300 روپے آن لائن ٹرانسفر کردیے اور اسے فون کرکے بتایا کہ پیسے بھیج دیے ہیں مگر جواب میں سراج گا۔لیاں دینے لگا ۔۔۔ پتہ نہیں اسے کس بات کا غصہ تھا جو فون پر ٹھنڈا نہ ہوا اور یہ 50 سے 60 یار دوست رشتہ دار لے کر ہمارے گھر کے دروازے پر آگیا ، ان لوگوں نے زور زور سے دروازہ بجانا شروع کیا ، میں زین کے سامنے آگئی اور سختی سے منع کیا دروازہ نہیں کھولنا اور نہ باہر جانا ہے ۔ مگر ان بے شرموں نے گلی میں زین کو میرا اور بہنوں کے نام لے کر وہ گا۔لیاں دیں کہ میں شرم سے پانی پانی ہو گئی ، انہوں نے زین کو گا۔لی دے کر کہا کہ اپنے باپ کے ہو تو باہر آجاؤ ۔۔۔ پھر زین میرے قابو میں نہ رہا اور دروازہ کھول کر باہر نکلا میں بھی اسکے پیچھے تھی اور دو دوست بھی اسکے پیچھے تھے ۔۔۔ ایک کے پاس پستو۔ل تھا جس میں صرف ایک گو۔لی تھی ۔۔۔ مگر زین کے دوست زین سے بھی کم عمر اور ناسمجھ تھے ، زین باہر نکلا تو انہون نے اسے مارنا شروع کردیا ۔ اسی دوران جب زین کو سراج ڈنڈا مار رہا تھا زین کے دوست نے انہیں منتشر کرنے کے لیے واحد گو۔لی چلائی جو سراج کو لگی اور وہ گر گیا،اگر اس روز میرے بچے اور اسکے دوستوں کا ارادہ ق۔ت۔ل کا ہوتا تو ایک دو کلاشن۔کوفیں رکھتے پھر میں دیکھتی کون ہمارے گھر کے قریب آتا ، مگر ایسی کسی کی سوچ بھی نہ تھی ۔۔ بہر حال سراج گر گیا تو پھر یہ لوگ اور مشتعل ہو گئے زین چیختا رہا کہ مجھے چھوڑو اللہ کے واسطے سراج کو ہسپتال لے جاؤ اسے کچھ ہو نہ جائے مگر ان لوگوں پر خون سوار ہو چکا تھا، میں حلف اٹھا کر کہتی ہوں سراج زندہ تھا مگر ان لوگوں نے سراج کو تڑپتا چھوڑ دیا ور زین کو مارنے میں مگن ہو گئے انہوں نے زین کے کپڑے پھاڑ دیے اور بالکل ننگا کر دیا بہنیں چیخ چیخ کر پاگل ہو گئیں ہم پٹھانوں کے آگے ہاتھ جوڑتے رہے کہ خدا واسطے ظلم نہ کرو مگر یہ لوگ باز نہ آئے میرے بیٹے کو اتنا مارا گیا کہ وہ موقع پر مر گیا پھر یہ ظالم اسکی بر۔ہنہ لا۔ش کو رسی سے موٹرسائیکل کے پیچھے باندھ کر گھسیٹتے ہوئے لے گئے ۔۔۔۔۔اور پھر ایک گھنٹے بعد اسکی لا۔ش میدان سے ملی ۔۔۔۔۔ میرے بیٹے کا سراج کے ق۔ت۔ل میں ہاتھ نہیں دوست نے بھی زین کو بچانے کے لیے فا۔ئیر کیا مگر ان لوگوں نے ظلم کی انتہا کی ، میں نہ کسی کو بددعا دونگی نہ کسی کو مروانا چاہتی ہوں ۔۔ میرا بیٹا اللہ کے پاس چلا گیا اب اللہ جانے اور میرے بیٹے کے مجرم جانیں ۔۔۔۔۔ #fblifestyle
مقبول خبریں
نیوز لیٹر میں شمولیت
تازہ ترین خبریں روزانہ اپنے میل باکس میں حاصل کرنے کے لیے ہمارے نیوز لیٹر میں سبسکرائب کریں۔ بے فکر رہیں، ہمیں بھی سپیمنگ سے نفرت ہے!
[contact-form-7 id="287" title="subscribe"]اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں
مزید پڑھیں
مقبول خبریں
نیوز لیٹر میں شمولیت
تازہ ترین خبریں روزانہ اپنے میل باکس میں حاصل کرنے کے لیے ہمارے نیوز لیٹر میں سبسکرائب کریں۔ بے فکر رہیں، ہمیں بھی سپیمنگ سے نفرت ہے!
[contact-form-7 id="287" title="subscribe"]