سیاست کا اصل مقصد عوامی خدمت ہونا چاہیے۔ ثناء گلزار ایڈووکیٹ
پختون نوجوانوں میں سیاسی شعور بیدار کرنا وقت کی اشد ضرورت ہے۔ ثناء گلزار ایڈووکیٹ کی میڈیا سے گفتگو
پشاور(نمائندہ خصوصی)گلوبل ٹائمز میڈیا یورپ کے مطابق ثناء گلزار پیشے کے لحاظ سے ایک وکیل ہیں اور ان کا تعلق پشاور خیبر پختونخوا سے ہے۔ انہوں نے اپنی عملی سیاست کا آغاز باقاعدہ طور پر عوامی نیشنل پارٹی کے پلیٹ فارم سے کیا۔ وہ پارٹی کے نوجوانوں کے ونگ میں کافی متحرک رہی ہیں اور انہیں اے این پی کی صوبائی سیکرٹری یوتھ افیئرز اور صوبائی انفارمیشن کمیٹی کی رکن کے طور پر ذمہ داریاں دی گئیں ہیں۔ وہ پشاور اور صوبے کے دیگر حصوں میں پارٹی کی تنظیم نو اور نوجوانوں لخاص طور پر طالبات اور نوجوان خواتین کو سیاست کی طرف راغب کرنے میں پیش پیش رہی ہیں۔ثناء گلزار ایڈووکیٹ کا نظریہ فخرِ افغان باچا خان اور رہبرِ تحریک خان عبدالولی خان کے فلسفے پر مبنی ہے۔ وہ پختون دھرتی پر امن کے قیام اور باچا خان کے عدم تشدد کے فلسفے کی پر چلتی ہیں۔ وہ صوبائی حقوق اٹھارویں ترمیم کے تحفظ اور پختونوں کے وسائل پر ان کے اپنے اختیار کی وکالت کرتی ہیں۔ وہ ملک میں ایک ایسے جمہوری نظام کی حامی ہیں جہاں آئین اور قانون کی بالادستی ہو اور تمام شہریوں کو برابر کے حقوق حاصل ہوں۔ وہ موجودہ معاشی نظام اور مہنگائی کے خلاف عوامی فورمز پر آواز اٹھاتی رہی ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ سیاست کا اصل مقصد عوامی خدمت ہونا چاہیے۔ثناء گلزار ایڈووکیٹ کی خدمات بنیادی طور پر تنظیمی اور عوامی سطح پر ہیں۔ بحیثیت سیکرٹری یوتھ افیئرز انہوں نے پختون نوجوانوں میں سیاسی شعور بیدار کرنے انہیں انتہا پسندی سے دور رکھنے اور امن پسند سیاست کی طرف لانے کے لیے متعدد سیمینارز اور ورکشاپس کا انعقاد کیا۔ پختون معاشرے کی روایات کے اندر رہتے ہوئے انہوں نے خواتین کو قانونی اور سیاسی دھارے میں شامل کرنے کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے تاکہ خواتین بھی فیصلے سازی کے عمل کا حصہ بن سکیں۔ ایک ایڈووکیٹ کے طور پر وہ پارٹی کے مظلوم کارکنوں اور پسماندہ طبقات کو قانونی تحفظ فراہم کرنے کی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیتی ہیں۔ وہ نوجوانوں کے لیے تعلیمی اور ہنر کے منصوبوں کی حامی ہیں اور پارٹی کی سطح پر ایسے پروگرامز کو فروغ دیتی ہیں جو نوجوانوں کو برانڈڈ روزگار کی طرف لے جائیں۔ وہ پشاور اور گردونواح میں پارٹی کے فلاحی ونگز کے ذریعے مقامی سطح پر صاف پانی صحت کے شعور اور غریب خاندانوں کی امداد کے چھوٹے منصوبوں کی نگرانی کرتی رہی ہیں۔