وینزویلا کا ملبہ اور لاہور کے آنسو
وینزویلا… 7 ہزار کلومیٹر دور ایک ملک۔ وہاں زمین نے کروٹ لی تو 1400 لاشیں نکل آئیں۔ ملبے کے نیچے دبی چیخیں ابھی سنی بھی نہ گئی تھیں کہ لاہور کے علاقے کاہنہ سے خبر آئی ٹیوشن سینٹر کی چھت گری، 14 معصوم بچے ملبے میں دب کر شہید ہو گئے۔
فرق کیا ہے؟
فرق کوئی نہیں ہر جگہ انسان مر رہے ہیں اور انسان خاموشی سے دیکھتے ہیں
وینزویلا میں قیامت “قدرت” اچانک لائی۔ لاہور میں قیامت ہم “خود” لائے۔
زلزلہ کسی کے بس میں نہیں ہوتا۔ لیکن ایک ٹیوشن سینٹر کی بوسیدہ چھت؟ وہ تو ہمارے بس میں تھی۔ وہ چھت گری نہیں، گرائی گئی۔ کس نے؟ ہماری مجرمانہ غفلت نے، ہمارے حرام کے لقموں نے، ہماری رشوت کی بنیادوں نے۔
ہمارے اس پھٹیچر نظام نے
ہماری سب اچھا ہے کی رپورٹوں میں
ہماری غیر ذمہ داریوں اور غیر سنجیدگیوں نے
ہمیں آج جیسا
خوفناک، غم زدہ کر دینے والا دن دکھایا ہے
وینزویلا میں پوری دنیا کے 27 ممالک کے 2000 امدادی کارکن پہنچ گئے۔ کیوں؟
کیونکہ وہاں انسانیت زندہ ہے۔ اور ہمارے ہاں؟
کاہنہ کا وہ بوڑھا باپ کہہ رہا ہے: “کرائے کا ٹوٹا پھوٹا مکان، پانی کا بھی انتظام نہیں، حالات اتنے برے ہیں کہ کفن کے پیسے بھی نہیں تھے”۔
سوچو، ایک باپ اپنے بیٹے کو بغیر کفن دفنانے لے جائے… یہ منظر وینزویلا کے زلزلے سے بڑا زلزلہ ہے۔
ابھی کچھ ہی دن پہلے ڈیرہ غازی خان میں ایک سکول کی چھت گری تھی جس میں بہت سارے بچے شہید ہو گئے
وہاں کوئی بھی حکومتی ایکشن دیکھنے میں نہیں آیا
اسی طرح جب کچھ دن پہلے لاہور کی ایک زیر تعمیر سڑک کے گڑھے میں گر کر دو میاں
بیوی
اور ان کا ننھا بچہ
حادثے کا شکار ہو گئے تھے تو ایک انقلابی انتظامی بھونچال لاہور میں آگیا تھا
14 بچوں کی ہلاکت کا معاملہ بھی معمولی نہیں ہے لیکن کیا اس عظیم حادثہ کے تناظر میں بھی کوئی انتظامی بھونچال آ سکتا ہے
یہ کیسا عشقِ پاکستان ہے؟
ہم “نجکاری سے پیار” کے نعرے لگاتے ہیں،
تعلیم و صحت کو نجکاری کے حوالے کر دینا چاہتے ہیں جبکہ تعمیر
وطن اور قوموں کے روشن مستقبل کی نجکاری کوئی بیوقوف قوم ہی کر سکتی ہے
اس سب کے باوجود ہم
اپنے بچوں کے لیے ایک محفوظ چھت نہیں بنا سکتے۔ ہم “عشقِ پاکستان” کی تقریریں کرتے ہیں،
مگر پاکستان کے مستقبل کو بوسیدہ چھتوں کے نیچے دفن کر دیتے ہیں۔
اللہ پاک قرآن میں فرماتا ہے: “بڑی خرابی ہے ہر ایسے شخص کی جو مال گنتا جائے… یہ حطمہ کی آگ میں پھینکا جائے گا”۔
وہ سیاستدان جس کے حلقے میں پینے کا پانی نہیں
مگر بینر لگے ہیں… کیا یہ سب “مال گننے والے” نہیں ہیں؟
و ہ محکمہ بلڈنگ کے افسران و اہلکار ان جو
چند ٹکوں کی
خاطر بغیر وزٹ کیے
پبلک کے استعمال کے لیے عمارت کی فٹنس کے سرٹیفیکیٹ جاری کر دیتے ہیں
وہ محکمہ تعلیم کے ذمہ داران جنہیں خبر ہی نہیں کہ ان کے علاقوں میں اتنے سکول کتنے ٹیوشن سینٹر اور کتنے تعلیمی مراکز کام کر رہے ہیں اور ان سب اداروں کی عمارتیں کس حال میں ہے
سب صرف مال بنانے والے ہیں
کسی کو بھی انسانیت کا کوئی خیال نہیں
ہر کوئی مال بنا رہا ہے مال جمع کر رہا ہے
نعوذ باللہ کیا قبر کے فرشتوں اور اللہ پاک کو بھی رشوت دے گا؟
وینزویلا ہمیں سکھاتا ہے کہ
وہاں قدرتی آفت کے بعد انسانیت جاگتی ہے۔ 27 ملک دوڑ پڑتے ہیں۔
ہمارے ہاں مصنوعی آفت کے بعد ہم کیا کرتے ہیں؟
بیان، مذمت، فوٹو سیشن، اور پھر اگلے سانحے کا انتظار۔
اگر تعمیر پاکستان کرنی ہے
تو
اپنے نظام تعلیم کو فوکس کرنا ہوگا
ایک بچے کی لاش بھی “قومی سانحہ” ہے، صرف “خبر” نہیں
اس قومی سانحہ کو سانحہ کے طور پر ہی لینا ہوگا صرف سوگ منانے کا اعلان نہیں کرنا بلکہ ائندہ کبھی کوئی ایسا قومی
سانحہ نہ ہو کہ تناظر میں سخت ترین انتظامی اقدامات اٹھانے ہوں گے
رشوت کا ایک نوٹ بھی 14 بچوں کے کفن سے زیادہ بھاری ہے
رشوت خوری کی جڑ
ہر حال میں کاٹنی ہوگی کرپٹ لوگوں کو کیفر کردار تک پہنچانا ہوگا اس سلسلے میں چاہے کوئی بھی قیمت ادا کرنی پڑے پیچھے ہٹنے والے قومی مجرم ہیں
“عشقِ پاکستان” کا مطلب ہے ہر اینٹ ایمانداری سے لگائی جائے کیونکہ اس اینٹ کے نیچے کسی کا نہیں
پاکستان کا بچہ پڑھ رہا ہے
وینزویلا کے ملبے سے لاشیں نکل رہی ہیں۔ لاہور کے ملبے سے ہمارے ضمیر کا جنازہ نکل رہا ہے۔
کفن کے بغیر دفن ہونے والا وہ بچہ ہم سب سے سوال کر رہا ہے:
کیا
غریبوں کا پاکستان یہی ہے؟
اب فیصلہ ہمارا ہے۔ یا تو کرپشن کرنی ہوگی، یا پھر کرپشن کے خلاف لڑنا ہوگا۔ صرف دھرنا نہیں ہوگا۔
پاکستان کو ہر حال میں مضبوط ترین ناقابل شکست اور اسلامی انسانی جمہوری حقوق کا پاسدار رہنا ہے
صرف باتوں سے کام نہیں چلے گا ڈسپلن کے پیشے سے اپنی کامیابی کی نہر خود تعمیر کرنی ہوگی ایمانداری کے بغیر قومیں تباہ و برباد ہو جایا کرتی ہیں پاکستان کی بقا تعمیر اور ترقی کے لیے نظریہ پاکستان کے فروغ کو ہر حال میں یقینی بنا کر ہم پاکستان میں ایمانداری کو فروغ دینے کا اہم ترین ٹاسک مکمل کر سکتے ہیں
قومیں بغیر نظریے کے مال بنانے کے تعقب میں بھٹک جایا کرتی ہیں
صرف نظریات کی کنکریٹ دیوار ہی انسانوں کو سیسہ پلائی ہوئی دیوار میں تبدیل کر سکتی ہے
“شوق اگر تیرا نہ ہو تیری نماز کا امام
تیری نماز بھی حجاب تیرا سجود بھی حجاب”