10

روہڑی صنعتی علاقہ سہولیات سے محروم، صنعتکار فیکٹریاں بند کرنے پر مجبور۔حکومت سندہ سے سہولیات کا مطابہ۔

روہڑی صنعتی علاقہ سہولیات سے محروم، صنعتکار فیکٹریاں بند کرنے پر مجبور۔حکومت سندہ سے سہولیات کا مطابہ۔
سکھر/روہڑی (بیورو رپورٹ سید نصیر حسین زیدی خبر دے رھے ھیں سندھ حکومت کی جانب سے صوبے میں صنعتی ترقی، سرمایہ کاری کے فروغ اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو سہولیات دینے کے بلند و بانگ دعوے تو کیے جارہے ہیں، مگر زمینی حقائق اس کے برعکس دکھائی دیتے ہیں۔ سکھر ضلع کے شہر روہڑی میں قائم سندھ اسمال انڈسٹریل ایریا گزشتہ تیس برس سے بنیادی سہولیات سے محروم چلا آرہا ہے، جس کے باعث صنعتکار شدید پریشانی میں مبتلا ہیں اور کئی صنعتیں بند ہونے کے خطرات پیدا ہوگئے ہیں۔صنعتکاروں سریش لال، گلاب رائے، برج لال، اومیش کمار، وکرم کمار اور دیگر نے بتایا کہ صنعتی علاقے میں نہ پکی سڑکیں موجود ہیں، نہ بجلی کی مناسب سہولت، جبکہ نکاسی آب اور فراہمی آب کا نظام بھی مکمل طور پر تباہ حال ہے۔ انہوں نے کہا کہ علاقے میں جگہ جگہ گندا پانی جمع رہتا ہے، جس سے تعفن پھیلتا ہے اور مٹی و گردوغبار کے باعث کام کرنا دشوار ہوچکا ہے۔صنعتکاروں کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت اور متعلقہ اداروں کو متعدد بار تحریری اور زبانی طور پر مسائل سے آگاہ کیا گیا، مگر آج تک کوئی عملی اقدام نہیں اٹھایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت سہولیات فراہم کرنے میں تو ناکام ہے، تاہم ہر تین ماہ بعد لاکھوں روپے ٹیکس وصول کرنا نہیں بھولتی۔انہوں نے مزید بتایا کہ روہڑی سندھ اسمال انڈسٹریل ایریا میں مجموعی طور پر 46 پلاٹس موجود ہیں، لیکن بنیادی سہولیات نہ ہونے کے باعث صرف 15 سے 20 پلاٹس پر ہی صنعتیں قائم ہیں۔ موجودہ صورتحال برقرار رہی تو آنے والے چند ماہ میں یہ صنعتیں بھی بند ہوسکتی ہیں۔صنعتکاروں نے خبردار کیا کہ اگر صنعتیں بند ہوئیں تو سینکڑوں مزدور اور ملازمین بے روزگار ہوجائیں گے، جس کا نقصان صرف صنعتکاروں کا نہیں بلکہ پورے سندھ اور مقامی معیشت کا ہوگا۔ انہوں نے سندھ حکومت سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر نوٹس لے کر روہڑی کے صنعتی علاقے میں بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ صنعتوں کو تباہی سے بچایا جاسکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں