22

سکھر: عالمی ہائی بلڈ پریشر ڈے پر این آئی سی وی ڈی کے ماہر ڈاکٹروں کی اہم پریس کانفرنس، بلڈ پریشر کو “خاموش قاتل” قرار دے دیا

سکھر: عالمی ہائی بلڈ پریشر ڈے پر این آئی سی وی ڈی کے ماہر ڈاکٹروں کی اہم پریس کانفرنس، بلڈ پریشر کو “خاموش قاتل” قرار دے دیا

سکھر(بیورورپورٹ)عالمی ہائی بلڈ پریشر ڈے کے موقع پر سکھر پریس کلب میں این آئی سی وی ڈی سکھر کے ماہر امراضِ قلب ڈاکٹر جاوید خورشید شیخ اور ڈاکٹر تنویر الحق شیخ نے اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے عوام کو ہائی بلڈ پریشر کے خطرناک اثرات، احتیاطی تدابیر اور بروقت تشخیص کی اہمیت سے آگاہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ہائی بلڈ پریشر ایک “خاموش قاتل” بیماری ہے جو بغیر علامات کے انسانی جسم کے اہم اعضا کو شدید نقصان پہنچاتی رہتی ہے۔ڈاکٹر جاوید خورشید شیخ نے کہا کہ این آئی سی وی ڈی سکھر کی جانب سے عالمی ہائی بلڈ پریشر ڈے منانے کا مقصد عوام میں شعور بیدار کرنا ہے تاکہ لوگ اس خطرناک بیماری سے متعلق آگاہی حاصل کریں اور بروقت علاج کرا سکیں۔انہوں نے کہا کہ بلڈ پریشر انسانی جسم کے مختلف اہم اعضا خصوصاً دل، دماغ، گردوں اور آنکھوں کو متاثر کرتا ہے، جبکہ اس پر قابو نہ پانے کی صورت میں فالج، ہارٹ اٹیک، گردوں کی خرابی اور اچانک موت جیسے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ہائی بلڈ پریشر تیزی سے پھیلنے والی بیماری بنتی جا رہی ہے اور نوجوان نسل بھی اس سے محفوظ نہیں رہی۔ 30 سے 50 سال کی عمر کے افراد میں اچانک اموات کے بڑھتے ہوئے واقعات تشویشناک ہیں، جن کی ایک بڑی وجہ غیر متوازن طرزِ زندگی اور بلڈ پریشر جیسے امراض کو نظر انداز کرنا ہے۔ڈاکٹر تنویر الحق شیخ نے کہا کہ دنیا بھر میں ہائی بلڈ پریشر کو “سائلنٹ کلر” یعنی خاموش قاتل کہا جاتا ہے کیونکہ اکثر مریضوں کو اس بیماری کا اس وقت تک علم نہیں ہوتا جب تک جسم کے اہم اعضا متاثر نہ ہو جائیں۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں ہر تین افراد میں سے ایک شخص ہائی بلڈ پریشر کا شکار ہے، جبکہ تقریباً 50 فیصد افراد کو یہ معلوم ہی نہیں ہوتا کہ وہ اس مرض میں مبتلا ہیں۔انہوں نے کہا کہ جن لوگوں کو اپنے مرض کا علم ہوتا ہے ان میں سے بھی بڑی تعداد باقاعدگی سے دوائیں استعمال نہیں کرتی۔ بعض افراد صرف علامات ظاہر ہونے پر دوائی لیتے ہیں، جبکہ ہائی بلڈ پریشر ایک دائمی بیماری ہے جس کا علاج مستقل بنیادوں پر ڈاکٹر کے مشورے سے جاری رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ماہرینِ قلب نے کہا کہ بلڈ پریشر کی بنیادی وجوہات میں نمک کا زیادہ استعمال، مرغن غذائیں، فاسٹ فوڈ، سگریٹ نوشی، تمباکو، شیشہ، ذہنی دباؤ، ورزش کی کمی اور غیر متحرک طرزِ زندگی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج کل نوجوان موبائل فون اور سوشل میڈیا میں حد سے زیادہ مصروف رہتے ہیں، جس کی وجہ سے جسمانی سرگرمیاں نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہیں اور موٹاپا و ہائی بلڈ پریشر جیسے امراض تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ڈاکٹروں نے عوام کو مشورہ دیا کہ روزانہ کم از کم 30 منٹ واک یا ورزش کو معمول بنایا جائے، وزن کو قابو میں رکھا جائے، نمک اور چکنائی والی غذاؤں سے پرہیز کیا جائے اور ذہنی دباؤ کم کرنے کی کوشش کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ جن افراد کے خاندان میں ہائی بلڈ پریشر یا شوگر کی ہسٹری موجود ہو انہیں خاص احتیاط اور باقاعدہ اسکریننگ کی ضرورت ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہائی بلڈ پریشر کی دوائیں ہر مریض کے لیے مختلف ہو سکتی ہیں، اس لیے کسی دوسرے مریض کی دوا استعمال کرنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ مریضوں کو چاہیے کہ وہ اپنے معالج سے مسلسل رابطے میں رہیں اور باقاعدگی سے بلڈ پریشر چیک کرواتے رہیں۔پریس کانفرنس کے اختتام پر این آئی سی وی ڈی کے ماہرین نے عوام سے اپیل کی کہ ہائی بلڈ پریشر کو معمولی بیماری نہ سمجھا جائے، کیونکہ بروقت تشخیص اور احتیاطی تدابیر کے ذریعے نہ صرف اس مرض کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے بلکہ دل، دماغ اور گردوں کو خطرناک نقصانات سے بھی محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں