18

سکھر کے قریب گاؤں راہوجا میں پسند کی شادی کے بعد تشدد، متاثرہ خواتین و اطفال کا پاک کتاب تھامے احتجاج

سکھر کے قریب گاؤں راہوجا میں پسند کی شادی کے بعد تشدد، متاثرہ خواتین و اطفال کا پاک کتاب تھامے احتجاج

سکھر(بیورورپورٹ)سکھر کے قریب گاؤں راہوجا میں نوجوان غلام مرتضیٰ لکھن کی طرف سے برادری کی لڑکی گلناز لکھن کے ساتھ پسند کی شادی کرنے کے بعد فریقین میں کشیدگی انتہا کو پہنچ گئی۔ لڑکی کے لواحقین نے نوجوان کے گھر پر حملہ کر کے فائرنگ کی، خواتین و اطفال پر تشدد کیا اور گھر کے تمام افراد کو بے دخل کر دیا۔متاثرہ خواتین اور بچوں نے پاک کتاب تھامے سکھر پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے انصاف کا مطالبہ کیا۔تفصیلات کے مطابق نوجوان غلام مرتضیٰ لکھن کی والدہ عزیزان لکھن، نسیما لکھن، مائی راڄی، مائرہ اور دیگر نے پاک کتاب تھامے سکھر پریس کلب کے سامنے آواز بلند کی کہ چند روز قبل غلام مرتضیٰ لکھن نے گلناز، دختر ممتاز لکھن، سے پسند کی شادی کی تھی۔ اس کے بعد لڑکی کے لواحقین ممتاز لکھن، امداد لکھن، عقیل لکھن، مجیب لکھن، حفیظ لکھن، حیدر اور دیگر نے ان کے گھر پر حملہ کر کے فائرنگ کی، خواتین، مردوں اور بچوں پر شدید تشدد کیا اور جبراً گھر سے بے دخل کر دیا۔مزید بتایا گیا کہ حملہ آوروں نے گھر میں موجود تمام سامان، سونے کے زیورات، نقد رقم اور مویشی لوٹ لیے۔ متاثرین کے مطابق، پولیس کو آگاہ کرنے کے باوجود سائٹ ایریا پولیس کسی قسم کا تعاون فراہم کرنے کو تیار نہیں۔ جوابدار انہیں قتل سمیت مختلف نوعیت کی دھمکیاں دے رہے ہیں، جس سے شدید خوف و ہراس کی کیفیت ہے۔متاثرہ خواتین و اطفال نے ڈی آئی جی سکھر، ایس ایس پی سکھر اور اعلیٰ حکام سے اپیل کی ہے کہ حملہ آوروں، تشدد اور لوٹ مار کرنے والے ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر کے انہیں گرفتار کیا جائے، متاثرین کو تحفظ فراہم کیا جائے، اور لوٹا گیا سامان، مویشی، سونے کے زیورات اور نقد رقم واپس دلائی جائے۔احتجاجی مظاہرے میں شریک افراد نے مطالبہ کیا کہ پولیس فوری کارروائی کرے اور ملوث افراد کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جائے، ورنہ وہ مزید سخت احتجاج کرنے پر مجبور ہوں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں