سکھر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے لوئر گریڈ ملازمین کا احتجاج: عدالتی احکامات کے باوجود جوائینگ آرڈرز نہ ملے
سکھر(بیورورپورٹ)عدالتِ عالیہ سندھ کے واضح احکامات اور ڈسٹرکٹ ریٹرننگ کمیٹی (ڈی آر سی) میں نام شامل ہونے کے باوجود، سکھر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے گریڈ 1 سے 4 کے ملازمین کو جوائینگ آرڈرز فراہم نہ کیے جانے پر شدید احتجاج کا سامنا ہے۔ متاثرہ ملازمین نے سکھر پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا جہاں انہوں نے اپنی مطالبات کے حق میں آواز بلند کی۔مظاہرین میں شامل ریاض احمد، لیاقت علی مہر، ریاض اور دیگر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے 2023 میں ڈپٹی کمشنر آفس میں ڈی آر سی کے انٹرویوز دیے تھے۔ انٹرویوز میں کامیابی کے بعد ان کے نام ڈی آر سی کی منظور شدہ فہرست میں بھی شامل کر لیے گئے، تاہم اس کے باوجود انہیں جوائینگ آرڈرز جاری نہیں کیے گئے۔ملازمین کے مطابق، جب بار بار درخواستوں کے باوجود کوئی کارروائی نہیں ہوئی تو انہوں نے سندھ ہائی کورٹ میں ایک اجتماعی پٹیشن دائر کی۔ عدالت نے 2025 میں یہ پٹیشن منظور کرتے ہوئے ملازمین کے حق میں فیصلہ دیا۔ ہائی کورٹ نے واضح احکامات جاری کیے کہ ڈی آر سی کی فہرست میں شامل تمام ملازمین کو مکمل جوائینگ آرڈرز (فلفور آرڈرز) فراہم کیے جائیں۔تاہم، عدالتی فیصلے کے چھ ماہ گزر جانے کے باوجود ان ملازمین کو ابھی تک آرڈرز نہیں مل سکے ہیں۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ دیگر تمام محکموں کے اہلکاروں کو آرڈرز جاری کر دیے گئے ہیں جبکہ وہ دھکیلے جانے پر مجبور ہیں۔احتجاجی مظاہرین نے چیف جسٹس آف پاکستان، وزیرِاعلیٰ سندھ اور دیگر اعلیٰ حکام سے اپیل کی ہے کہ وہ ان پر ہونے والی “بے چینی” کو دور کرنے کے لیے فوری اقدامات کریں اور انہیں ان کا قانونی حق دلائیں۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ اگر جلد ہی ان کی درخواست پر توجہ نہ دی گئی تو وہ مزید سخت گیر احتجاج کرنے پر مجبور ہوں گے۔