21

صدر لاہور پریس کلب ارشد انصاری کو تمغہء امتیاز کی عطائیگی خصوصی تحریر: راجہ نور الہی عاطف

صدر لاہور پریس کلب ارشد انصاری کو تمغہء امتیاز کی عطائیگی

خصوصی تحریر: راجہ نور الہی عاطف

پاکستانی صحافت کی تاریخ میں بعض شخصیات محض نام نہیں بلکہ ایک ادارے کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ایسے ہی معتبر، باوقار اور متحرک صحافتی رہنماؤں میں ممتاز صحافی رہنما ارشد انصاری کا نام نمایاں حیثیت رکھتا ہے، جنہیں صدارتی تمغۂ امتیاز سے نوازا جانا نہ صرف ان کی ذاتی خدمات کا اعتراف ہے بلکہ پوری صحافی برادری کے لیے اعزاز اور فخر کی علامت بھی ہے۔
یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ لاہور پریس کلب کے مقبول ترین صدر ارشد انصاری وہ پہلے صدر بن گئے ہیں جنہیں یہ قومی اعزاز عطا کیا گیا۔ یہ صرف ایک تمغہ نہیں بلکہ برسوں کی محنت، دیانت، صحافتی اصولوں سے وابستگی اور صحافیوں کی خدمت کا صلہ ہے۔ وہ ایک یا دو مرتبہ نہیں بلکہ ریکارڈ چودھویں مرتبہ بھاری اکثریت سے لاہور پریس کلب کے صدر منتخب ہوئے، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ صحافی برادری ان پر غیر متزلزل اعتماد رکھتی ہے۔
ارشد انصاری کا صحافتی سفر ایک قابلِ تقلید داستان ہے۔ انہوں نے ایک رپورٹر کے طور پر اپنے کیریئر کا آغاز کیا اور اپنی صلاحیتوں، محنت اور پیشہ ورانہ دیانت کے باعث ایڈیٹر کے منصب تک پہنچے۔ ان کی صحافت ہمیشہ اصولوں، جرات اور عوامی مسائل کی ترجمانی سے عبارت رہی۔ یہی وجہ ہے کہ وہ صرف لاہور ہی نہیں بلکہ ملک بھر کی صحافتی برادری میں احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔
اگر لاہور پریس کلب کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو ارشد انصاری کی خدمات سنہری حروف میں لکھی جائیں گی۔ انہوں نے نہ صرف پریس کلب کو جدید خطوط پر استوار کیا بلکہ صحافیوں کے فلاحی منصوبوں کو بھی عملی شکل دی۔ بے شمار صحافیوں کے لیے رہائش کے مسائل کے حل میں ان کا کردار ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ انہوں نے صحافیوں کو صرف ایک پلیٹ فارم ہی نہیں دیا بلکہ انہیں ایک مضبوط اور محفوظ چھت بھی فراہم کی۔
ارشد انصاری کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ صحافیوں کے حقوق کے معاملے میں ہمیشہ ثابت قدم رہے۔ مشکل حالات ہوں یا آزادیِ صحافت کو درپیش چیلنجز، انہوں نے ہر محاذ پر صحافی برادری کی نمائندگی کی۔ ان کی قیادت نے صحافیوں کو متحد رکھا اور اختلافات کے باوجود ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر جمع کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
گورنر ہاؤس لاہور میں سردار سلیم حیدر خان کی جانب سے انہیں تمغۂ امتیاز سے نوازا جانا ایک یادگار لمحہ تھا۔ اس تقریب نے اس حقیقت کو مزید مضبوط کیا کہ حقیقی خدمت، اخلاص اور مسلسل جدوجہد کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔
ارشد انصاری نے یہ اعزاز صرف اپنی ذات تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے پورے پاکستان کے صحافیوں کے نام کیا۔ یہی ایک بڑے انسان اور سچے قائد کی پہچان ہوتی ہے کہ وہ کامیابی کو اپنی ذات تک محدود نہیں رکھتا بلکہ اسے اپنے ساتھیوں کا مشترکہ سرمایہ سمجھتا ہے۔
آج جب صحافت بے شمار چیلنجز سے گزر رہی ہے، ایسے میں ارشد انصاری جیسی شخصیات امید، حوصلے اور استقامت کی علامت ہیں۔ ان کا تمغۂ امتیاز دراصل ان تمام صحافیوں کے نام ہے جو سچ کی تلاش، عوامی آواز اور آزادیِ اظہار کے لیے اپنی زندگیاں وقف کیے ہوئے ہیں۔
بلاشبہ، ارشد انصاری صرف لاہور پریس کلب کے صدر نہیں بلکہ پاکستانی صحافت کا ایک معتبر چہرہ، ایک مضبوط آواز اور صحافی برادری کا حقیقی سرمایہ ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں