17

سکھر(بیورورپورٹ)سکھر کے علاقہ باگڑجی کے رہائشی ہکڑو برادری سے تعلق رکھنے والے نذیر احمد ہکڑو نے

سکھر(بیورورپورٹ)سکھر کے علاقہ باگڑجی کے رہائشی ہکڑو برادری سے تعلق رکھنے والے نذیر احمد ہکڑو نے اپنے معصوم بچوں کے ہمراہ سکھر پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے سگے بھائیوں پر جائیداد پر قبضے، تشدد اور بیٹی کے بدلے گھر واپس کرنے کی شرط لگانے کا الزام عائد کیا ہے۔مظاہرے کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نذیر احمد ہکڑو نے بتایا کہ وہ کل سات بھائی ہیں۔ ان کے والد مرحوم جمال الدین ہکڑو نے زندگی میں ہی تمام بھائیوں کو الگ الگ اپنا حصہ تقسیم کر دیا تھا۔ ان کے حصے میں آنے والے پلاٹ پر انہوں نے دن رات محنت مزدوری کر کے اپنی فیملی کے لیے ایک چھوٹا سا گھر تعمیر کیا۔ تاہم کچھ عرصہ بعد ان کے چھ بھائیوں نے مل کر اس گھر پر قبضہ کر لیا۔نذیر احمد نے الزام لگایا کہ بھائیوں نے انہیں اور ان کے بچوں کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا، مار پیٹ کر گھر سے باہر نکال دیا اور صاف کہہ دیا کہ ”پہلے اپنی بچی دو تو تمہیں یہ جگہ ملے گی، ورنہ جو کرنا ہے کر لو“۔متاثرہ شخص نے کہا کہ وہ اپنے چھوٹے بچوں کے ساتھ بے گھر اور بے سہارا ہو چکے ہیں۔ انہوں نے اپنے بھائیوں کی جانب سے جاری ظلم و زیادتیوں اور انتہائی ناانصافی پر شدید احتجاج کیا اور اعلیٰ حکام سے فوری مداخلت کی اپیل کی۔نذیر احمد ہکڑو نے چیف جسٹس آف پاکستان، وزیراعلیٰ سندھ، آئی جی سندھ، ڈی آئی جی سکھر اور ایس ایس پی سکھر سے پرزور مطالبہ کیا کہ ان کے بھائیوں سے فوری طور پر ان کی جائیداد واپس دلائی جائے، انہیں اور ان کے بچوں کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے اور اس ناانصافی کا ازالہ کر کے انہیں پرسکون زندگی گزارنے کا موقع دیا جائے۔
مظاہرے کے دوران نذیر احمد ہکڑو کے معصوم بچے بھی ان کے ساتھ موجود تھے جو والد کے ساتھ کھڑے ہو کر انصاف کا مطالبہ کرتے رہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں