29

سکھر(بیورورپورٹ)خواتین کو دورانِ ملازمت ہراسانی سے تحفظ فراہم کرنے کے قانون 2010 کے حوالے سے

سکھر(بیورورپورٹ)خواتین کو دورانِ ملازمت ہراسانی سے تحفظ فراہم کرنے کے قانون 2010 کے حوالے سے آگاہی سیمینار گورنمنٹ گرلز کالج سکھر میں محمد اقبال آرائیں، کنسلٹنٹ (ر) ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج، صوبائی محتسبِ اعلیٰ سکھر کی صدارت میں منعقد ہوا۔
آگاہی سیمینار “خاموشی توڑیں، ہراسانی ختم کریں، بات کریں، مضبوط رہیں” کے عنوان کے تحت منعقد کیا گیا۔ سیمینار میں گورنمنٹ گرلز کالج کی پرنسپل فخرالنساء بلوچ، ریجنل ڈائریکٹر کالجز سکھر ڈاکٹر شفیق احمد رند، ڈپٹی ڈائریکٹر کالجز سکھر عبدالغفار کلوڑ، کالج کی خواتین اساتذہ اور طالبات کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔اس موقع پر محمد اقبال آرائیں، کنسلٹنٹ (ر) ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج، صوبائی محتسبِ اعلیٰ سکھر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کو دورانِ ملازمت ہراسانی سے تحفظ فراہم کرنے کا قانون 2010 نافذ کیا گیا ہے تاکہ ملازمت کے مقامات پر خواتین کو ہراسانی سے تحفظ فراہم کیا جا سکے اور قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ جنسی ہراسگی کا شکار خاتون بغیر کسی خرچ کے اس جرم کے خلاف شکایت درج کرا سکتی ہے کیونکہ یہ جرم ایک سماجی برائی اور بیماری ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ خواتین کو ہراساں کرنے کے خلاف قانون 2010 سینیٹ آف پاکستان سے منظور شدہ ہے، جس کے مطابق سکھر آفس میں ایسی شکایات کی سماعت کی جاتی ہے اور خواتین کو دورانِ ملازمت ہراسانی سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے صوبائی محتسبِ اعلیٰ سندھ سکھر آفس کام کر رہا ہے۔محمد اقبال آرائیں نے مزید بتایا کہ قانون کے تحت درخواست گزار کی نشاندہی پر جوابدہ فریق مقررہ دنوں کے اندر جواب دینے کا پابند ہوتا ہے، جس کے بعد قائم کردہ کمیٹی سماعت کے بعد اپنی سفارشات صوبائی محتسبِ اعلیٰ سندھ کو ارسال کرتی ہے۔آگاہی سیمینار میں گورنمنٹ گرلز کالج کی اساتذہ کی جانب سے سوال و جواب کا سیشن بھی منعقد ہوا، جس کے دوران محمد اقبال آرائیں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ہراسمنٹ کیس ثابت ہونے پر سخت سزائیں دی جا سکتی ہیں، جن میں سرکاری ملازمین کی انکریمنٹ روکنا، ملازمت سے برطرفی اور تنخواہ بند کرنا شامل ہیں۔ انہوں نے اس قانون اور آگاہی کو نچلی سطح تک اپنے عملے تک پہنچانے پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ اس قانون کا غلط استعمال نہیں ہونا چاہیے اور حقیقی ہراسمنٹ کے واقعات کو تبدیل نہیں کیا جانا چاہیے۔ مزید کہا کہ جس ملزم کے خلاف فیصلہ آئے، وہ اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کر سکتا ہے اور اپیل کمیٹی بھی تین ماہ کے اندر فیصلہ سنانے کی پابند ہوگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں