17

سکھر(بیورورپورٹ)سکھر اکاؤنٹس آفس میں 7 سالہ ڈاکہ بے نقاب: جی پی فنڈ کے کروڑوں ہڑپ، نیب خاموش، ملوث افسران آج بھی کرسیوں پر وزیر اعظم

سکھر(بیورورپورٹ)سکھر اکاؤنٹس آفس میں 7 سالہ ڈاکہ بے نقاب: جی پی فنڈ کے کروڑوں ہڑپ، نیب خاموش، ملوث افسران آج بھی کرسیوں پر وزیر اعظم سیکرٹریٹ کی رپورٹ دبا دی گئی، لین دین کے بعد کارروائی روک دی گئی، فائل 12 سال سے نیب میں دفن خبر کے مطابق سکھر ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفس میں قومی خزانے پر سات سال تک مسلسل ڈاکہ ڈالا جاتا رہا۔ 2005 سے 2012 تک جی پی فنڈ کی مد میں کروڑوں روپے کا میگا گھپلا سامنے آ گیا۔ وزیر اعظم سیکرٹریٹ نے تحقیقات کرائیں، نیب نے مقدمہ بھی درج کیا، مگر 12 سال گزرنے کے باوجود ملوث افسران کے خلاف کارروائی نہ ہو سکی۔ذرائع کے مطابق 2012 میں وزیر اعظم سیکرٹریٹ کی جانب سے عرفان ملک اور عبدالعزیز پر مشتمل دو رکنی تحقیقاتی ٹیم سکھر پہنچی۔ چھان بین میں ہوشربا انکشاف ہوا کہ ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفس کے دو افسران محمد علی منگی اور برہان الدین لودھی سات سال تک جی پی فنڈ سے کروڑوں روپے نکالتے رہے۔تحقیقاتی رپورٹ وزیر اعظم سیکرٹریٹ میں جمع کرائی گئی جس پر نیب نے دونوں افسران کے خلاف مقدمہ درج کر لیا۔ مگر ذرائع کا سنسنی خیز دعویٰ ہے کہ اس کے بعد “لین دین” ہوا۔ مبینہ ڈیل کے نتیجے میں دونوں افسران نہ صرف گرفتاری سے بچ گئے بلکہ اپنے خلاف وزیر اعظم سیکرٹریٹ کی رپورٹ بھی دبوا دی۔انتہائی باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ اس میگا اسکینڈل کی فائل آج بھی نیب آفس میں موجود ہے۔ 12 سال گزر گئے مگر اس پر مزید کارروائی نہیں ہوئی۔ حیران کن طور پر مبینہ طور پر ملوث افسران آج بھی ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفس سکھر میں اپنے عہدوں پر براجمان ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کی موجودگی میں آفس میں ایک بار پھر کرپشن کا بازار گرم ہو چکا ہے اور سرکاری ملازمین کا جی پی فنڈ غیر محفوظ ہے۔سیاسی، سماجی اور عوامی حلقوں نے اس صورتحال پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ صرف کرپشن نہیں بلکہ نظامِ احتساب کے منہ پر طمانچہ ہے۔ شہریوں نے چیئرمین نیب اور وزیر اعظم سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے کہ 2012 والی فائل فوری طور پر کھولی جائے۔ملوث افسران کو فوری معطل کر کے گرفتار کیا جائے۔ہڑپ کیے گئے کروڑوں روپے سود سمیت ریکور کیے جائیں رپورٹ دبانے اور ڈیل کرنے والے نیب افسران کے خلاف بھی کارروائی کی جائے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر اب بھی کارروائی نہ ہوئی تو سمجھا جائے گا کہ نیب کرپٹ افسران کا محافظ ادارہ بن چکا ہے۔خبرکے حوالے سے دونوں افسران محمد علی۔منگی اور برہان الدین لودھی سے رابطہ کیا گیا لیکن انہوں نے کوئی بھی جواب دینے سے گریز کیا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں