17

ایک ماہ قبل کورٹ میرج کرنے والے جوڑے کو جان کا خطرہ، سکھر پریس کلب میں احتجاج

ایک ماہ قبل کورٹ میرج کرنے والے جوڑے کو جان کا خطرہ، سکھر پریس کلب میں احتجاج

سکھر (بیورورپورٹ)ضلع شہید بینظیر آباد کے علاقے شاہ میر درگاہ تعلقہ قاضی احمد مورو سے تعلق رکھنے والا ایک شادی شدہ جوڑا جان کے تحفظ کے لیے سکھر پریس کلب پہنچ گیا۔ انہوں نے احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ لڑکی کے اہل خانہ اور مقامی پولیس بااثر افراد کے دباؤ پر انہیں مسلسل ہراساں کر رہے ہیں۔کاشف علی ولد پیر عبدالجبار پیرزادہ نے اپنی اہلیہ عزرا ولد پیر دوست محمد پیرزادہ کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے 15 اپریل 2026 کو نواب شاہ سیشن کورٹ میں قانونی طور پر کورٹ میرج کی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ شادی باہمی رضامندی اور خوشی سے انجام پائی، تاہم شادی کے بعد سے لڑکی کے اہل خانہ ان کے درپے آزار ہیں اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔عزرا نے میڈیا سے واضح کیا کہ انہوں نے اپنی مرضی اور رضامندی سے کاشف علی پیرزادہ کے ساتھ عدالت میں نکاح کیا۔ ان کا کہنا تھا، “مجھے کسی نے اغواء نہیں کیا، نہ ہی مجھ پر کوئی دباؤ ڈالا گیا۔ میں اپنے شوہر کے ساتھ خوش ہوں، مگر میرے والدین اور رشتہ دار اس شادی کو تسلیم کرنے کے بجائے ہمیں اور میرے شوہر کے خاندان کو مسلسل ہراساں کر رہے ہیں۔”انہوں نے الزام عائد کیا کہ ان کے والد پیر دوست محمد، رستم، دلاور، حنیف ، ثناء اللّٰہ، نصر اللہ نثار اور دیگر قریبی رشتہ داروں نے شادی کے بعد ان کے شوہر اور سسرالی رشتہ داروں کے خلاف اغواء کا جھوٹا مقدمہ درج کروایا اور پولیس کے ذریعے مسلسل ہراسانی کی جا رہی ہے۔ کاشف علی نے کہا کہ انہوں نے مکمل قانونی طریقہ کار اپنایا، باوجود اس کے ان کے خاندان کو انتقامی کارروائیوں کا سامنا ہے۔ انہوں نے بااثر افراد کے دباؤ پر پولیس کی جانب سے ہراسانی کا بھی الزام لگایا۔جوڑے نے خدشہ ظاہر کیا کہ انہیں “غیرت” کے نام پر قتل کیے جانے کا خطرہ لاحق ہے۔ انہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان، وزیر اعلیٰ سندھ، آئی جی سندھ، ڈی آئی جی شہید بینظیر آباد اور ایس ایس پی نواب شاہ سے اپیل کی کہ انہیں اور ان کے اہل خانہ کو فوری قانونی تحفظ فراہم کیا جائے۔مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ ان کا مؤقف سرکاری ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے تاکہ مستقبل میں کسی ناخوشگوار واقعے کی صورت میں ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا، “اگر ہمیں، میرے شوہر یا سسرالی رشتہ داروں کو کوئی نقصان پہنچا تو اس کے ذمہ دار لڑکی کے اہل خانہ ہوں گے۔”احتجاج کے اختتام پر جوڑے نے اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے اور تحفظ و انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا تاکہ وہ خوف و ہراس کے بغیر اپنی زندگی گزار سکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں