9

سکھر( ) مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کے نائب صدر، سکھر اسمال ٹریڈرز کے صدر حاجی محمد

سکھر( ) مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کے نائب صدر، سکھر اسمال ٹریڈرز کے صدر حاجی محمد جاوید میمن نے تاجر سیکریٹریٹ گولڈ سینٹر صرافہ بازار میں سکھر اسمال ٹریڈرز کے سرپرست اعلیٰ حاجی غلام شبیر بھٹو، جنرل سیکریٹری محمد عامر فاروقی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت کی معیشت کی مضبوطی کیلئے پالیسیاں سمجھ سے بالاتر ہیںجس ملک میں تاجر برادری کو سہولیات میسر نہ آئیں وہاں کی معیشت کیسے مضبوط ہوسکتی ہے ،حکومت تاجر برادری کے ساتھ مشاورت کے بعد ہی ایف بی آر اور دیگر ٹیکسز کے حوالے سے پالیسیاں بنائے۔تاجر برادری ملک میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے تاجر برادری نے ہمیشہ حکومت کے ساتھ تعاون کیا ہے لیکن افسوس ایف بی آر ہو ، گیس ، بجلی اور میونسپل کے محکمے تاجر برادری کو اپنا غلام سمجھتے ہیں جب چاہے ان پر ناجائز ٹیکسز ڈال دیتے ہیں جس سے تاجر برادری کی عزت نفس مجروح ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تاجر برادری پہلے ہی کئی اقسام کے ٹیکسز ادا کرتی ہے اس کے باوجود حکومت کی جانب سے ٹیکس نیٹ کو بڑھانے کے بجائے ٹیکس ادا کرنے والے کو تنگ و پریشان کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔ ایف بی آر کی جانب سے ڈیجیٹل انوائسنگ سسٹم کا نفاذ کسی بھی صورت ممکن نہیں ہے۔ ایف بی آر کے افسران کو کمپیوٹر لنک کے ذریعے تاجروں کے کھاتوں تک رسائی کو کسی بھی صورت برداشت نہیں کرینگے۔ اس سے مزید کاغذی کارروائی کا بوجھ بڑھے گا جس کو سنبھالنا چھوٹے تاجر کے بس کی بات نہیں اسی طرح پوائنٹ آف سیلز (P.O.S) جوکہ دکاندار کی سیلز کو ایف بی آر کے ساتھ منسلک کرنا معیشت دشمن اقدام ہے۔ ٹیکس ادا کرنے والے تاجروں کو ہی ایف بی آر کی جانب سے آڈٹ نوٹسز جاری کر کے حراساں کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے جس کے ملکی معیشت پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہونگے۔ان کا کہنا تھا کہ آئے روز پیٹرلیم مصنوعات، بجلی، گیس کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافے کی وجہ سے تاجر برادری کو بڑے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے جہاں تاجر برادری اس سے متاثر ہوتی تو وہی پاکستانی عوام کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے۔ ان چیزوں کے بڑھنے سے ٹرانسپورٹ کے کرایوں ، اشیاءخورد و نوش کی قیمتوں میں اضافہ ہو جاتا ہے جس سے ملک میں ایک افراتفری کا ماحول بن جاتا ہے آج ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت تاجر برادری کے ساتھ ایک ٹیبل پر بیٹھے اور تاجر برادری اور عوام دوست پالیسیوں کو بنائے یہ پاکستان ہمارا ہے اور پاکستان کی معیشت کا مضبوط ہونا ہر پاکستانی کیلئے ضروری ہے۔اگر آج غیروں کی پالیسی کو چھوڑ کر ہم اپنوں کی پالیسی کو اپنائےں گے تو پاکستان دنیا کا ترقی یافتہ ملک بن سکتا ہے۔ حاجی محمد جاوید میمن و دیگر رہنماﺅں کا مزید کہنا تھا کہ سکھر سمیت اندرون سندھ میں محکمہ سیپکو نے بجلی کی طویل غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کر کے صنعت و تجارت کاروبار کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ مہنگی بجلی اور اس میں بھاری ٹیکسز کی ادائیگی کے باوجود صارفین کے بلوں میں ناجائز ڈیڈیکشن نے تاجروں اور شہریوں کو شدید پریشانیوں میں مبتلا کر دیا ہے۔ مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کی پوری قیادت حکومت کے ساتھ بیٹھنے کو تیار ہے اگر حکومت تاجر دوست پالیسیاں بنانا چاہتی ہے دیگر صورت میں ہم احتجاجی تحریک چلائینگے۔ اس موقع پر سکھر اسمال ٹریڈرز کے عبدالقادر شیوانی، بابو فاروقی، محمد منیر میمن، طارق علی میرانی، عبدالباری انصاری، ڈاکٹر سعید اعوان و دیگر بھی موجود تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں