6

(چھدرو نامہ) 8 مئی — ورلڈ تھیلیسیمیا ڈے ✍🏻تحریر: آصف نیازی ملنگ بابا سربراہ ملنگ بابا تھیلیسیمیا فاؤنڈیشن میانوالی

(چھدرو نامہ)
8 مئی — ورلڈ تھیلیسیمیا ڈے
✍🏻تحریر: آصف نیازی ملنگ بابا سربراہ ملنگ بابا تھیلیسیمیا فاؤنڈیشن میانوالی

ہر سال 8 مئی کو دنیا بھر میں ورلڈ تھیلیسیمیا ڈے منایا جاتا ہے تاکہ لوگوں میں تھیلیسیمیا جیسے خطرناک مگر قابلِ بچاؤ مرض کے بارے میں شعور اجاگر کیا جا سکے۔ یہ دن صرف ایک بیماری کو یاد کرنے کے لیے نہیں بلکہ ان ہزاروں بچوں کی زندگی، تکلیف، ہمت اور امید کو سلام پیش کرنے کے لیے منایا جاتا ہے جو روزانہ خون لگوا کر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ تھیلیسیمیا ایک موروثی بیماری ہے جو والدین سے بچوں میں منتقل ہوتی ہے۔ اگر ماں اور باپ دونوں تھیلیسیمیا مائنر ہوں تو ان کے بچوں میں تھیلیسیمیا میجر ہونے کا خطرہ بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے، اور یہی وہ بیماری ہے جس میں بچے کو ہر پندرہ دن یا مہینے بعد خون لگوانا پڑتا ہے۔ ایسے بچے نہ صرف جسمانی تکلیف برداشت کرتے ہیں بلکہ ان کے والدین بھی شدید ذہنی، مالی اور معاشرتی مشکلات کا شکار رہتے ہیں۔ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں تھیلیسیمیا کے مریضوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے، اور اس کی بڑی وجہ عوام میں آگاہی کی کمی اور شادی سے پہلے تھیلیسیمیا ٹیسٹ نہ کروانا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ بہت سے لوگ آج بھی اس ٹیسٹ کو غیر ضروری سمجھتے ہیں، حالانکہ صرف ایک سادہ سا بلڈ ٹیسٹ آنے والی نسلوں کو اس تکلیف دہ بیماری سے محفوظ بنا سکتا ہے۔
تھیلیسیمیا کوئی عام بیماری نہیں بلکہ ایک ایسا مستقل امتحان ہے جو ایک بچے کے ساتھ پورے خاندان کو متاثر کرتا ہے۔ ایک تھیلیسیمیا میجر بچہ جب دنیا میں آتا ہے تو ابتدا میں وہ عام بچوں کی طرح دکھائی دیتا ہے، مگر چند ماہ بعد اس کے جسم میں خون کی کمی پیدا ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ بچہ کمزور ہونے لگتا ہے، رنگ زرد پڑ جاتا ہے، چہرہ مرجھا جاتا ہے اور پھر زندگی بچانے کے لیے خون لگانے کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ یہ عمل چند دن یا چند مہینوں کا نہیں بلکہ پوری زندگی جاری رہتا ہے۔ خون کے بار بار انتقال سے جسم میں آئرن بڑھ جاتا ہے جس کی وجہ سے دل، جگر اور دیگر اعضاء متاثر ہونے لگتے ہیں۔ مہنگی دوائیں، بار بار ہسپتال جانا، خون کی تلاش، مالی اخراجات اور ذہنی پریشانی ایک خاندان کو اندر سے توڑ کر رکھ دیتی ہے۔ ایسے میں اگر ہم صرف شادی سے پہلے ایک معمولی سا تھیلیسیمیا اسکریننگ ٹیسٹ کروا لیں تو آنے والی نسل کو اس اذیت سے بچایا جا سکتا ہے۔
آج دنیا بھر میں یہی پیغام دیا جا رہا ہے کہ “احتیاط علاج سے بہتر ہے”۔ تھیلیسیمیا کا مکمل علاج ہر کسی کے بس کی بات نہیں، لیکن اس کی روک تھام بہت آسان ہے۔ اگر لڑکا اور لڑکی شادی سے پہلے اپنا تھیلیسیمیا ٹیسٹ کروا لیں تو اس بیماری کے پھیلاؤ کو بڑی حد تک روکا جا سکتا ہے۔ اگر دونوں میں سے ایک فرد تھیلیسیمیا مائنر ہو تو پریشانی کی بات نہیں، لیکن اگر دونوں تھیلیسیمیا مائنر ہوں تو انہیں ڈاکٹر سے مکمل مشورہ لینا چاہیے کیونکہ ایسی صورت میں پیدا ہونے والے بچوں میں تھیلیسیمیا میجر کا خطرہ ہوتا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک نے لازمی اسکریننگ کے ذریعے تھیلیسیمیا پر کافی حد تک قابو پا لیا ہے، مگر ہمارے معاشرے میں ابھی بھی اس حوالے سے سنجیدگی کی کمی پائی جاتی ہے۔ بعض لوگ اسے قسمت کا کھیل سمجھتے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک سائنسی مسئلہ ہے جس کا حل صرف شعور، احتیاط اور بروقت ٹیسٹ ہے۔
8 مئی کا دن ہمیں یہ احساس دلاتا ہے کہ تھیلیسیمیا کے مریض صرف ہمدردی نہیں بلکہ عملی تعاون کے مستحق ہیں۔ ان بچوں کو مسلسل خون کی ضرورت ہوتی ہے، اس لیے صحت مند افراد کو خون عطیہ کرنے کی عادت اپنانی چاہیے۔ خون کا ایک عطیہ کسی معصوم بچے کی زندگی بچا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ والدین، اساتذہ، علماء، ڈاکٹرز، سوشل ورکرز اور میڈیا سب کی ذمہ داری ہے کہ وہ تھیلیسیمیا سے متعلق آگاہی عام کریں۔ سکولوں، کالجوں اور دیہات تک یہ پیغام پہنچانا وقت کی اہم ضرورت ہے کہ “شادی سے پہلے تھیلیسیمیا ٹیسٹ لازمی کروائیں”۔ یہ صرف ایک ٹیسٹ نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کی حفاظت کا ذریعہ ہے۔ اگر آج ہم نے غفلت برتی تو کل مزید بچے اس اذیت ناک بیماری کے ساتھ زندگی گزارنے پر مجبور ہوں گے۔
ملنگ بابا تھیلیسیمیا فاؤنڈیشن میانوالی نہ صرف تھیلیسیمیا کے بچوں کے لیے خون کا انتظام کرتی ہے بلکہ عوام میں شعور بیدار کرنے کے لیے بھی مسلسل کوششیں کر رہے ہیں۔ معاشرے کے مخیر حضرات، نوجوانوں اور سماجی تنظیموں کو چاہیے کہ وہ ایسے اداروں کا ساتھ دیں تاکہ تھیلیسیمیا سے متاثرہ بچوں کو بہتر زندگی دی جا سکے۔ ایک مہذب اور باشعور قوم وہی ہوتی ہے جو بیماری کے علاج سے پہلے اس کی روک تھام پر توجہ دے۔
آئیے اس ورلڈ تھیلیسیمیا ڈے پر ہم سب یہ عہد کریں کہ تھیلیسیمیا کے خلاف آگاہی پھیلائیں گے، خون عطیہ کریں گے اور ہر نوجوان کو شادی سے پہلے تھیلیسیمیا ٹیسٹ کروانے کی تلقین کریں گے۔ یہی شعور، یہی احتیاط اور یہی ذمہ داری آنے والی نسلوں کو ایک صحت مند اور محفوظ مستقبل دے سکتی ہے۔ تھیلیسیمیا سے پاک پاکستان صرف ایک خواب نہیں بلکہ ہم سب کی مشترکہ کوششوں سے حقیقت بن سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں