ہارون آباد/(نمائندہ خصوصی سٹی رپورٹر) آزادی صحافت: سچائی کا چراغ اور جمہوریت کی روح ہے سینئر صحافی سید نوید شاہ عثمانی جناح پریس کلب رجسٹرڈ ہارون آباد صحافت کسی بھی زندہ، باشعور اور جمہوری معاشرے کی شہ رگ ہوتی ہے۔ یہ وہ الہامی طاقت ہے جو اقتدار کے سنگ مرمر سے تراشے گئے ایوانوں سے لے کر مٹی میں اٹی عام گلی کوچوں تک سچائی کی مشعل فروزاں کرتی ہے۔ جب صحافت کی زنجیریں کٹتی ہیں تو معاشرہ سانس لیتا ہے، فکرِ انسانی کو جلا ملتی ہے، سوالات جنم لیتے ہیں، اور نظام کے بوسیدہ ڈھانچے خود کو درست کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ لیکن یاد رکھیے! جب یہی صحافت مصلحتوں، خوف اور پابندیوں کے حصار میں سسکنے لگے تو قومیں ایسے تاریک غاروں میں دھکیل دی جاتی ہیں جہاں سچ اور جھوٹ کا فرق مٹ جایا کرتا ہے۔
صحافت: ایک مقدس امانتصحافت محض الفاظ کا گورکھ دھندا یا خبروں کی ترسیل کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک مقدس امانت ہے۔ یہ وہ امانت ہے جس کے بنیادی ستون سچائی، غیر جانبداری اور بے خوف ذمہ داری ہیں۔ صحافی معاشرے کی وہ بصیرت ہے جو ان حقائق کو دیکھ لیتی ہے جن سے عام آنکھ قاصر ہے؛ وہ وہ سماعت ہے جو اقتدار کے شور میں دبائی گئی سسکیوں کو سن لیتی ہے؛ اور وہ زبان ہے جو مظلوم کی فریاد کو وقت کے فرعونوں کے سامنے للکار بنا دیتی ہے۔
چیلنجز اور عزمِ صمیم
تاریخ کے ہر دور کی طرح آج بھی آزادئ صحافت کو سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔ کبھی سیاسی جبر کے کوڑے، کبھی معاشی بدحالی کے جال، کبھی ادارہ جاتی آہنی دیواریں اور کبھی براہِ راست جان لیوا خطرات اس قلم کی نوک کو روکنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن وقت گواہ ہے کہ سچائی کے لہو سے ڈوبی ہوئی سیاہی کو کبھی خشک نہیں کیا جا سکا اور نہ ہی حق گو قلم کو ہمیشہ کے لیے خاموش کرنا ممکن رہا ہے۔شہداءِ صحافت کی لازوال قربانیاس پرخار راستے میں کئی جانبازوں نے اپنے خون کا نذرانہ دے کر ثابت کیا کہ صحافت صرف ایک ذریعہ معاش نہیں بلکہ ایک عظیم مشن ہے۔ پاکستان کی صحافتی تاریخ ایسے سورماؤں کے ذکر کے بغیر ادھوری ہے جنہوں نے ہر قسم کے دباؤ اور خطرات کو پسِ پشت ڈال کر حق کی آواز بلند کی۔ ان جیسے حوصلہ مند قلم کاروں نے یہ ثابت کیا کہ جب قلم کی آبرو کا سوال آئے تو جان کی قیمت بہت چھوٹی ہو جاتی ہے۔ صحافیوں کی شہادت اور دیگر گمنام مجاہدینِ قلم کی قربانیاں اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ صحافت ایک ایسی عبادت ہے جس میں کبھی کبھی حرفِ حق کی قیمت اپنی زندگی سے چکانی پڑتی ہے۔ یہ قربانیاں ضائع نہیں جاتیں، بلکہ یہ آنے والے دور کے لیے مشعلِ راہ بنتی ہیں۔سچ کی طاقت اور عوامی شعورآزاد صحافت کا جوہر یہ ہے کہ وہ سچ کو اس کی تمام تر تندی اور تیزی کے ساتھ عوام کے سامنے رکھے۔ جہاں قلم آزاد ہوتا ہے، وہاں کرپشن کے سانپ بے نقاب ہوتے ہیں، کمزور کو ڈھال ملتی ہے اور طاقتور اپنے ہر عمل کے لیے عوام کی عدالت میں جوابدہ ہوتا ہے۔ صحافت اور معاشرہ ایک دوسرے کے آئینے ہیں۔ ایک بیدار معاشرہ ہی صحافت کو جرات بخشتا ہے اور ایک نڈر صحافت ہی قوموں کو غلامی کی زنجیروں سے نکال کر شعور کی بلندیوں تک لے جاتی ہے۔
حرفِ آخرآج کے پراپیگنڈہ زدہ دور میں، جہاں معلومات کے سیلاب میں سچ کہیں کھو گیا ہے، وہاں ایک صحافی کی ذمہ داری دوچند ہو جاتی ہے۔ ریاستوں کی بقا شفافیت میں ہے، اور شفافیت کا وجود آزادئ صحافت کے بغیر محض ایک خواب ہے۔
آزاد صحافت قوم کی وہ آنکھ ہے جس کا کھلا رہنا ہی قوم کی زندگی کی علامت ہے۔ اگر یہ آنکھ بند ہو گئی تو پورا معاشرہ جہالت اور ناانصافی کے گھپ اندھیرے میں غرق ہو جائے گا۔شہداءِ صحافت کے نام خراجِ عقیدت:
وہ جری لوگ جو سچ لکھتے ہوئے خاموش کر دیے گئے، ان کی آواز آج بھی فضاؤں میں گونج رہی ہے۔ ان کی تڑپ اور ان کا لہو سچائی کے سفر کو ہمیشہ جاری و ساری رکھے گا۔
خدانخواستہ یہ دونوں پولیس افسران کسی شرمندگی سے سر جھکا کر نہیں کھڑے بلکہ ایک لرزا دینے والا
خدانخواستہ یہ دونوں پولیس افسران کسی شرمندگی سے سر جھکا کر نہیں کھڑے بلکہ ایک لرزا دینے والا
شور کوٹ ٹی ایچ کیو ہسپتال شورکوٹ میں پیشنٹ ویلفیئر سوسائٹی کا ماہانہ اجلاس سہیل آرتھر، اسسٹنٹ ڈائریکٹر , میڈیکل سوشل سروسز یونٹ شورکوٹ کی زیرِ صدارت ٹی ایچ کیو ہسپتال شورکوٹ میں منعقد ہوا۔
شور کوٹ (رپورٹ ڈاکٹر چوہدری محمد ادریس )*یومِ آزادیِ صحافت – شورکوٹ میں تاجر رہنماؤں کا صحافیوں کو خراجِ تحسین*
جھنگ: 13 سالہ بچہ پراسرار طور پر لاپتہ، اہل خانہ میں تشویش کی لہر،عوام سے مدد کی اپیل