سپریم کورٹ کا مخصوص نشتوں کا فیصلہ مفروضوں پر مبنی قرار دیدیا
🚨 🚨
سپریم کورٹ کا مخصوص نشتوں کا فیصلہ مفروضوں پر مبنی قرار دیدیا
سپریم کورٹ/ الیکشن کمیشن کا بڑا فیصلہ
الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ مخصوص نشتوں کے فیصلہ کو مفروضوں پر مبنی قرار دیدیا
الیکشن کمیشن نے نظرثانی کیس میں اضافی گزارشات سپریم کورٹ میں جمع کرادی
الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ سے فیصلہ پر عمل روکنے کی استدعا بھی کردی
الیکشن کمیشن نظر ثانی پر فیصلہ ہونے تک عدالتی فیصلہ پر حکم امتناع دیا جائے۔استدعا
سپریم کورٹ کا مخصوص نشتوں فیصلہ مفروضوں پر مبنی ہے۔الیکشن کمیشن درخواست
سپریم کورٹ تشریح کی آڑ میں آئین کو دوبارہ نہیں لکھ سکتی۔الیکشن کمیشن
عدالت نے تفصیلی میں اپنے 12 جولائی کے احکامات سے انحراف کیا۔الیکشن کمیشن
تفصیلی فیصلہ میں عدالت نے 41 ارکان کو تحریک انصاف تک محدود کردیا۔الیکشن کمیشن
آزاد ارکان کی سیاسی جماعت میں شمولیت کی معیاد تین دن ہے۔الیکشن کمیشن
سپریم کورٹ نے ارکان کو 15 دن دیکر آئین کے الفاظ کو بدل دیا۔الیکشن کمیشن
آزاد ارکان نے سنی اتحاد کونسل میں شمولیت کے بیان حلفی جمع کرائے۔الیکشن کمیشن
عدالتی فیصلہ میں ارکان کے بیان حلفیوں کو مکمل نظر انداز کردیا گیا۔الیکشن کمیشن
بیرسٹر گوہر کے سرٹیفکیٹس درست بھی مان لیں تو پی ٹی آئی ارکان کی تعداد 39 نہیں بنتی۔الیکشن کمیشن
امیداروں کی جانب سے سیکشن 66 کےتحت پارٹی وابستگی کے ڈیکلریشن جمع نہیں کرائے گئے۔الیکشن کمیشن
رولز 94 انتخابی نشان والی سیاسی جماعت کیلئے ہے۔الیکشن کمیشن
تحریک انصاف نے ججز چیمبر میں جو دستاویزات جمع کرائی وہ کبھی اوپن کورٹ میں پیش نہیں کی گئی الیکشن کمیشن
تحریک انصاف کو مخصوص نشتوں کا ریلیف نہیں دیا جا سکتا۔الیکشن کمیشن
تحریک انصاف نے کسی فورم پر اپنے حق کا دعوی نہیں کیا۔الیکشن کمیشن
سپریم کورٹ فل کورٹ کا فیصلہ ہے کہ دعوی نہ کرنے والے کو پارٹی یا ریلیف نہیں دیا جا سکتا۔الیکشن کمیش