اسپین کے ایک 22 سالہ نوجوان نے صرف مٹی سے بھرے ڈبے واپس بھیج کر Amazon کو تقریباً 3 لاکھ 70 ہزار ڈالر کا چونا لگا دیا۔ 😳
اسپین کے ایک 22 سالہ نوجوان نے صرف مٹی سے بھرے ڈبے واپس بھیج کر Amazon کو تقریباً 3 لاکھ 70 ہزار ڈالر کا چونا لگا دیا۔ 😳
۔Amazon ریٹرن سسٹم میں اُس وقت ایک بڑی کمزوری تھی۔
جب کوئی چیز واپس آتی تھی تو اکثر ریفنڈ صرف ایک چیز دیکھ کر منظور ہو جاتا تھا:
ڈبے کا وزن
اگر وزن اصل پراڈکٹ کے برابر ہو، تو کئی کیسز میں ریفنڈ خودکار طریقے سے ہو جاتا تھا، بغیر ڈبہ کھولے۔
یہ راز James Gilbert Kwarteng نامی نوجوان نے 2018 میں سمجھ لیا۔
اس نے دیکھا کہ اگر وزن میچ ہو جائے تو سسٹم کو اندر کی چیز کا علم نہیں ہوتا۔
اس کا طریقہ حیران کن حد تک آسان تھا۔
وہ Amazon سے مہنگی چیزیں منگواتا:
▪️ موبائل فون
▪️ لیپ ٹاپ
▪️ الیکٹرونکس
▪️ قیمتی گیجٹس
پراڈکٹ ملنے کے بعد وہ اسے گرام تک وزن کرتا۔
پھر اصل چیز نکال لیتا… اور اسی ڈبے میں اتنے ہی وزن کی مٹی بھر دیتا۔
پھر وہی ڈبہ واپس ریٹرن کر دیتا۔
۔Amazon کے گودام میں ڈبہ آتا، وزن چیک ہوتا، سسٹم اسے اصل سمجھ کر پورا ریفنڈ جاری کر دیتا۔
اور اصل پراڈکٹ وہ باہر بیچ دیتا۔
یعنی:
▪️ چیز بھی اس کے پاس
▪️ پیسے بھی واپس
▪️ الگ سے منافع بھی
اس نے یہ کام اتنی بار کیا کہ اس نے اپنی ایک کمپنی تک بنا لی، جس کا نام رکھا: Kwartech
یہ نام اس کے surname اور technology کو ملا کر بنایا گیا تھا۔
یہ دھوکہ ایک سال سے زیادہ چلتا رہا اور اس نے تقریباً €300,000 یورو (اس وقت تقریباً $370,000) کما لیے۔
یورپ بھر کے Amazon گوداموں میں مٹی بھرے ڈبے جمع ہونے لگے۔ 😅
وہ پکڑا کیسے گیا؟
بعد میں Amazon نے اپنی پالیسی بدلی اور کچھ ریٹرنز کو randomly کھول کر چیک کرنا شروع کیا۔
بارسلونا کے ایک ملازم نے ایک ڈبہ کھولا… اندر صرف مٹی تھی۔
معاملہ اسپین کی Technological Crimes Unit تک پہنچا۔
تحقیقات کے بعد پولیس نے تمام ریٹرنز کو Kwartech سے جوڑا اور اگست 2019 میں اسے گرفتار کر لیا گیا۔
اس وقت اسے یورپ کی تاریخ کا سب سے بڑا Amazon scam کہا گیا۔
وہ عدالت میں پیش ہوا، €3,000 یورو ضمانت دی اور اسی دن باہر آ گیا۔
بعد میں اور لوگ بھی یہی طریقہ استعمال کرتے رہے، مگر زیادہ جدید انداز میں۔
کچھ لوگ مہنگی چیز منگوا کر ٹوٹی ہوئی سستی چیز واپس بھیجتے تھے۔
کچھ گروہ Amazon ملازمین کو رشوت دے کر fake refunds کرواتے تھے۔
۔Amazon نے صرف 2022 میں return fraud روکنے کے لیے 1.2 ارب ڈالر خرچ کیے اور 15,000 ملازمین اس کام پر لگائے۔
سب سے حیران کن بات؟
ایسے scams آج بھی دنیا بھر میں مختلف شکلوں میں ہوتے ہیں۔
کیونکہ جب لاکھوں ریٹرنز ہر ہفتے آئیں… تو ہر ڈبہ کھولنا ممکن نہیں ہوتا۔
آخری بات
یہ کہانی صرف ایک scam نہیں… بلکہ یہ سبق ہے کہ
اگر سسٹم میں کمزوری ہو، تو کوئی نہ کوئی اسے ضرور استعمال کرتا ہے۔_______