16

ناظرین یہ ہے وہ کرائے کی قاتلہ جس نے محبت کا ڈھونگ رچا کر نواجوان مار ڈالا ۔۔ اصل کہانی منظر عام پر نہ ا سکے۔۔ ۔۔۔

ناظرین یہ ہے وہ کرائے کی قاتلہ جس نے محبت کا ڈھونگ رچا کر نواجوان مار ڈالا ۔۔ اصل کہانی منظر عام پر نہ ا سکے۔۔ ۔۔۔
۔مقتول نوجوان عاصم کے ایک قریبی دوست کے انکشافات ۔۔۔۔ عاصم 2013 میں لاہور پولیس میں کانسٹیبل بھرتی ہوا لیکن چند سال بعد اس نے ملازمت سے استعفیٰ دیا اور بیرون ملک چلا گیا وہاں اس نے اپنا کنٹینر لیا اور رزق حلال کمانا شروع کردیا ، 2019 میں عاصم کا ایک کزن جو اسکا بہترین دوست بھی تھا اور پولیس میں ہیڈ کانسٹیبل تھا ، شاہدرہ کے کچھ من ۔شیات فروشوں نے ریڈ کروانے کے شک میں اسے ق۔ت۔ل کر ڈالا ، اپنے کزن کی موت کا عاصم کو بہت صدمہ تھا اس نے قسم کھائی تھی کہ وہ اپنے کزن کے خون کا حساب ضرور لے گا اگر انصاف نہ مل سکا تو انتقام لے گا 2023 میں عاصم واپس لاہور آگیا اور اپنے کزن کے مقدمہ ق۔ت۔ل کی پیروی کرنا شروع کردی ، عاصم ایک انتہائی دلیر نوجوان تھا وہ یاروں کا یار تھا اور سب سے بڑھ کر حق پر تھا ، دشمنوں نے کئی بار اسے بھی نشانہ بنانا چاہا مگر اپنی پھرتی دلیری اور ہوشیاری کی وجہ سے کئی قا۔تلانہ حم۔لوں میں بچ گیا اس دوران دشمنوں نے شرمناک سازش کی انہوں نے ایک لڑکی کو استعمال کیا رانگ نمبر کے ذریعے ایم اے کی طالبہ علینہ نے عاصم سے روابط بنا لیے واٹس ایپ پر اپنی تصویریں عاصم کو بھیجنے لگی اوراس سے بے تکلف ہو گئی عاصم دل کا بھولا نکلا وہ آ۔ئیس کی عادی اس لڑکی کے چکر میں پھنس گیا اور اس سے ملنا جلنا شروع کردیا لڑکی کا الزام سرا سر غلط ہے کہ اسکی نازیبا تصویریں اور ویڈیوز عاصم کے پاس تھیں ۔اگر عاصم ان کاموں والا ہوتا تو درجنوں لڑکیاں اس پر مرتی تھیں لیکن وہ کسی کو لفٹ نہیں کرواتا تھا اس جیسے نوجوان کے ساتھ زندگی گزارنے کی تو عورتیں دعا کرتی ہیں پورا محلہ عاصم کے کردار خوش اخلاقی کی گواہی دیتا تھا ، اصل مسئلہ یہ تھا کہ آن لائن گیمز اور آئیس نے لڑکی کو ایک کھلونا بنا رکھا تھا عاصم کے دشمنوں نے اس کھلونے کو استعمال کیا اور لڑکی نے اسے نیند کی حالت میں گو۔لی ماری ۔ ورنہ منحنی اور دبلی پتلی ایک لڑکی ایک گھبرو نوجوان کو کیسے اتنی آسانی کے ساتھ مار سکتی تھی یہ ضرور ہے کہ عاصم ایک بدکردار لڑکی کو شریف اور قابل بھروسہ سمجھ کر مار کھا گیا ۔۔۔۔عاصم کو اپنی موت سے کچھ ہفتے قبل لڑکی پر شک ہوا تھا کہ یہ دشمنوں کے ساتھ ملی ہوئی ہے عاصم نے اسکا نمبر بھی بلاک کیا لیکن یہ مختلف نمبروں سے اس سے بات کرتی محبت کی قسمیں کھاتی اور دیکھے بغیر مر جاؤنگی والا ڈرامہ کرکے عاصم سے ملاقات کر لیتی ، اس لڑکی کی اصلیت اور حقیقت اس بات سے بھی ظاہر ہوتی ہے کہ اسکے اپنے والدین اور بہن بھائیوں نے اس کیس میں پھنسے کے بعد اسکی پیروی نہیں کی اور نہ اسکے پیچھے عدالت کچہری یا جیل گئے انہیں اپنی بیٹی کے کرتوتوں کا علم تھا لیکن بوڑھے والدین اور چھوٹے بہن بھائی کچھ کر نہیں سکے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں