ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کی ناکہ بندی (بلاکڈ) مکمل طور پر نافذ ہے، لیکن کم از کم 34 ایرانی آئل ٹینکرز جو حال ہی میں بھارت پہنچے ہیں، اس دعوے سے اختلاف کرتے ہیں۔
اصل صورتحال کچھ یوں ہے: ایران اپنا تیل لوڈ کر کے اپنی ساحلی حدود کے ساتھ ساتھ پاکستان کی طرف بڑھتا ہے، اور بین الاقوامی سمندری حدود میں داخل نہیں ہوتا جہاں امریکہ انہیں روک سکتا ہے۔
اس کے بعد جہاز پاکستان اور بھارت کی ساحلی حدود سے گزرتے ہیں، جسے بین الاقوامی قانون میں “بے ضرر گزر” (Innocent Passage) کہا جاتا ہے۔ اس قانون کے تحت ساحلی ممالک ان جہازوں کو روک نہیں سکتے۔
یوں ان سمندری راستوں میں داخل ہونے کے بعد امریکہ کے پاس انہیں روکنے کا کوئی اختیار نہیں رہتا۔
کاغذوں میں تو پابندی مکمل دکھائی دیتی ہے، لیکن حقیقت میں سمندر راستوں سے بھرا ہوا ہے، اور ایران کے پاس ان کا واضح نقشہ موجود ہے۔
ماخذ: وال اسٹریٹ ریسرچ سینٹر وب









