*بجٹ 2026-2027 میں پینشنرز پر شب خون*
*گزشتہ کئی سالوں سے پینشنرز کی پینشن میں اضافہ رائی کے برابر*
*حکومتی اخراجات میں کمی تو نہیں البتہ پینشنرز کی پینشن پر وار رھا*
*فلاحی ریاست منوں مٹی تلے دفن، جمہوریت کے نام پر بڑا دھوکہ*
*ضعیف، کمزور، لاغر، عمر رسیدہ پینشنرز کو ذہنی و جسمانی اور مالی اذیت سے دوچار کیا ھوا ھے*
*موجودہ مہنگائی کے تناسب سے اضافہ اور گروپ انشورنس کی ادائیگیوں پر احکامات جاری*
کراچی (اسٹاف رپورٹ) کراچی کے معروف جرنلسٹ و کالمکار ممبر کراچی پریس کلب و ممبر کراچی یونین آف جرنلسٹ جاوید صدیقی نے اس سال بھی ماہِ جون میں آنے والے بجٹ سے قبل سندھ سرکار کو بیدار کرنے کی کوشش کی ھے، ان کا کہنا ھے کہ گزشتہ کئی سالوں سے پینشنرز کی پینشن میں اضافہ رائی کے برابر ہوتا رھا ھے جبکہ مہنگائی ہر سال کئی سو گناہ بڑھتی چلی گئی ہے۔ سب سے حیرت و تعجب کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ سرکاری ملازمین و پینشنرز نے انہیں بتایا ھے کہ سندھ سرکار ابتک پینشنرز کا میڈیکل سنہ 2005 ء والا ہی دے رہی ھے اب جبکہ 2026 آچکا ھے اور طب و معالج و ادویات کے نرخ دیکھیں تو وہ کہاں سے کہاں تک پہنچ گئے ہیں۔ جاوید صدیقی نے کہا کہ آئینِ پاکستان کے مطابق پینشنرز کو موجودہ مہنگائی کے تناسب سے ادائیگی قانونی شرط بنتی ھے جبکہ حکومت اپنی شاہ خرچی عملاً ختم کرنے سے قاصر ھے اور یہ بوجھ کمزور، ضعیف، لاغر، بےبس پینشنرز پر ہر سال لاد دیتی ھے اور جھوٹ و نفاق سے انکی پینشن میں اضافہ کرنا ان پر بھاری لگتا ھے اس بابت ازخود نوٹس لینے والی سپریم کورٹ بھی مکمل بےحس و بے شرمی کا مظاہرہ پیش کرتی چلی آرہی ھے۔ کراچی کے معروف جرنلسٹ و کالمکار جاوید صدیقی نے آصف علی زرداری، بلاول بھٹو اور وزیراعلیٰ سندھ سے سوال کیا ھے کہ کہاں گئی عوامی ہمدردی؟؟ کہاں ہیں فلاحی امور؟؟ اور کدھر ھے جمہوری نظام؟؟ یہاں تو جمہور جھلس چکا ھے، مرچکا ھے، یہ آپ کے صوبہ سندھ کی سرکار کی نااہلی و ناکامی ھے کہ پینشنرز تباہ حال زندگی گزارنے پر مجبور ھیں۔ سندھ کے پینشنرز نے تمام زندگی محنت کرکے گزارا ھے، خدارا عوامی ٹیکس سے حاصل کردہ رقوم کو بینظیر کے نام پر بھیک مت دیجئے گا، انہیں انکا حق پینشن میں موجودہ مہنگائی کے تناسب سے اضافہ کرکے کیجئے یہی شہید بھٹو کا عزم تھا، یہی شھید بینظیر اور حاکم علی زرداری مرحوم کا ویژن بھی۔ آپ اور آپکی نسلیں اپنے پرکھوں کی اچھی روایات کیوں فراموش کررھے ہیں ، آپ کے درمیان یقیناً سانپولے ہیں جو گمراہ کرکے آپکو اور شہید بھٹو کی سیاسی جماعت پی پی پی کو بدنام اور برباد کرنا چاہتے ہیں۔ موجودہ سندھ سرکار کے عمل سے ظاہر ہورھا ھے کہ جیسے وہ کہہ رہی ھو ” سندھ وہ صوبہ ھے جہاں پینشنرز کو ہلاک کرنے کا منصوبہ ھے، ہر سال بجٹ میں پینشنرز کی پینشن میں کمی اور مہنگائی میں انتہاء کی بلندی، سندھ سرکار کا ایک ہی نعرہ نہ غریب رھے گا اور نہ ہی غربت کا مارا، مار ڈالیں گے انہیں بھوک و مفلسی و افلاس اور لاچارگی کے اندھیروں میں تاکہ پھر کوئی بھی نہ رہیگا فریاد کرنے والا۔۔!!“ اگر آپ جناب آصف علی زرداری صاحب اور جناب بلاول بھٹو زرداری صاحب نے بھی سندھ کے پینشنرز کی پینشن میں آنے والے بجٹ 2026-2027 میں خاطر خواہ اضافہ نہ کیا تو پھر بات صاف واضع ہوجائیگی کہ آپ کی خاموشی عدم دلچسپی اس بات کی دلالت کریگی کہ یہ سب کچھ آپ دونوں باپ بیٹوں کی مرضی سے ہورھا ھے اور اگر آپ باپ بیٹوں نے پینشن میں موجودہ مہنگائی کے تناسب سے پینشن میں اضافے کرنے کا حکم صادر کیا تو چند ایک چھپے سانپلوں کی کار فرمائی سامنے آجائیگی جس سے آپکی سیاسی جماعت پاک ہوجائیگی یقیناً ان منافقوں حاسدوں نے آپ دونوں کو حقیقت سے غافل رکھا ھوگا۔ آپ معزز حضرات سے امید افزاء ہیں یہ سندھ پینشنرز اور امید رکھتے ہیں کہ آپ پینشن میں خاطر خواہ اضافہ کیساتھ ساتھ سندھ بھر کے پینشنرز کا قانونی آئینی اور دینی حق ادا فرمائیں گے اور انہیں فی الفور گروپ انشورنس کی بھی ادائیگی کا پروانہ جاری فرمائیں گے۔ اب دیکھنا ھے کہ ماہ مئی کے درمیان تک آپ دونوں کا کیا فیصلہ آتا ھے پینشنرز کی پینشن میں موجودہ مہنگائی کے تناسب سے اضافہ اور گروپ انشورنس کی ادائیگیوں پر احکامات جاری کرتے ہیں کہ نہیں۔ سندھ بھر کے پینشنرز آپ کے احکامات کی جانب منتظر ہیں۔