قرآن، احادیث اور سائنس کی روشنی میں قیامت کیسے آئے گی؟ منگل 28 اپریل 2026 تحقیق و ٹحریر: انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
قرآن، احادیث اور سائنس کی روشنی میں قیامت کیسے آئے گی؟
منگل 28 اپریل 2026
تحقیق و ٹحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
قیامت (یومِ آخرت) اسلام کے بنیادی عقائد میں سے ہے۔ یہ وہ دن ہے جب موجودہ کائناتی نظام ختم ہو جائے گا، انسان دوبارہ زندہ کیے جائیں گے اور اپنے اعمال کا حساب دیں گے۔ اس حقیقت کو سمجھنے کے لیے قرآن، سنت اور سائنسی مشاہدات—تینوں زاویوں سے متوازن جائزہ ضروری ہے۔
1.قیامت: ایمان کا بنیادی جز
قرآنِ مجید قیامت کے وقوع کو یقینی قرار دیتا ہے:
“إِنَّ السَّاعَةَ آتِيَةٌ لَّا رَيْبَ فِيهَا”
(الحج: 7)
ترجمہ: بے شک قیامت آنے والی ہے، اس میں کوئی شک نہیں۔
یہ واقعہ اچانک پیش آئے گا:
“لَا تَأْتِيكُمْ إِلَّا بَغْتَةً”(الأعراف: 187)
ترجمہ: وہ تم پر اچانک ہی آئے گی۔
2.قیامت سے پہلے کی بڑی نشانیاں (احادیث کی روشنی میں)
حضرت محمد ﷺ نے قیامت سے پہلے کئی بڑی نشانیوں کا ذکر فرمایا، جنہیں “علاماتِ کبریٰ” کہا جاتا ہے:
اہم نشانیاں:
دجال کا خروج
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول
یاجوج و ماجوج کا ظہور
سورج کا مغرب سے طلوع ہونا
زمین سے ایک جانور (دابۃ الارض) کا نکلنا
دھواں (دخان)
تین بڑے زلزلے
حدیث:
“قیامت قائم نہیں ہوگی جب تک تم دس بڑی نشانیاں نہ دیکھ لو” (صحیح مسلم)
3.قیامت کا آغاز: صور پھونکا جانا
قیامت کا باقاعدہ آغاز اس وقت ہوگا جب فرشتہ حضرت اسرافیل علیہ السلام صور (بگل) پھونکیں گے۔
قرآن:
“وَنُفِخَ فِي الصُّورِ فَصَعِقَ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَمَن فِي الْأَرْضِ”
(الزمر: 68)
ترجمہ: اور صور پھونکا جائے گا تو آسمانوں اور زمین میں جو ہیں سب بے ہوش ہو جائیں گے (مر جائیں گے)
پھر دوسری بار صور پھونکا جائے گا اور سب زندہ ہو جائیں گے۔
4.کائنات کا نظام کیسے ٹوٹے گا؟
قرآن نہایت واضح انداز میں کائناتی نظام کے بکھرنے کو بیان کرتا ہے:
سورج اور ستارے:
إِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ(التکویر: 1)
ترجمہ: جب سورج لپیٹ دیا جائے گا
“وَإِذَا النُّجُومُ انكَدَرَتْ”
ترجمہ: اور جب ستارے بے نور ہو جائیں گے
زمین اور پہاڑ:
“إِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ زِلْزَالَهَا”
(الزلزال: 1)
ترجمہ: جب زمین اپنی پوری شدت سے ہلا دی جائے گی “وَسُيِّرَتِ الْجِبَالُ فَكَانَتْ سَرَابًا”(النبأ: 20)
ترجمہ: اور پہاڑ چلائے جائیں گے، پھر وہ سراب بن جائیں گے
آسمان:
“إِذَا السَّمَاءُ انفَطَرَتْ”
(الانفطار: 1)
ترجمہ: جب آسمان پھٹ جائے گا
5.احادیث میں قیامت کی ہولناکی
حضرت محمد ﷺ نے فرمایا:
“قیامت اس حال میں قائم ہوگی کہ آدمی اونٹنی کا دودھ دوہ رہا ہوگا، مگر اسے پینے کا موقع نہ ملے گا”
(بخاری)
یعنی قیامت انتہائی اچانک اور خوفناک ہوگی۔
6.سائنسی تناظر: کیا ممکن ہے؟
سائنس ہمیں یہ بتاتی ہے کہ کائنات ایک نازک توازن پر قائم ہے:
کششِ ثقل (Gravity)
زمین کی گردش
سورج کا توانائی نظام
کہکشاؤں کا توازن
اگر ان میں سے کوئی ایک نظام بھی متاثر ہو جائے تو:
زمین اپنی مدار سے نکل سکتی ہے سورج کی توانائی ختم یا بے قابو ہو سکتی ہے
شدید زلزلے اور تباہی آ سکتی ہے یہ سب امکانات قرآن کی بیان کردہ تصویر سے مطابقت رکھتے ہیں کہ:
کائنات کا نظام ٹوٹ جائے گا
لیکن ایک اہم نکتہ:
❗ سائنس “کیسے” (How) بتاتی ہے
❗ جبکہ قرآن “کب اور کیوں” (Why & When) بتاتا ہے
اور اصل کنٹرول صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے۔
7. قیامت کے بعد کیا ہوگا؟
سب انسان دوبارہ زندہ کیے جائیں گے
میدانِ حشر میں جمع ہوں گے
اعمال کا حساب ہوگا
قرآن:
“فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ”(الزلزال: 7)
ترجمہ: جس نے ذرہ برابر نیکی کی ہوگی، وہ اسے دیکھ لے گا
حرف آخر:
قیامت ایک یقینی حقیقت ہے:
اس سے پہلے بڑی نشانیاں ظاہر ہوں گی
پھر صور پھونکا جائے گا
کائنات کا نظام درہم برہم ہو جائے گا
اور انسان اپنے رب کے حضور حاضر ہوگا
سائنس اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ کائنات ایک نازک نظام پر قائم ہے، مگر اس نظام کو ختم کرنا صرف اللہ کے اختیار میں ہے۔
نصیحت:
ہمیں چاہیے کہ:
✔ قیامت پر یقین مضبوط کریں
✔ اپنے اعمال درست کریں
✔ اللہ کی طرف رجوع کریں
الدعاء
🤲 اللہ تعالیٰ ہمیں قیامت کی تیاری کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں کامیاب لوگوں میں شامل فرمائے۔
آمین یا رب العالمین
Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333