*آخری سجدہ!!*
یہ غــزہ ہے…. جہاں انسان خود اپنے آپ کو اپنے ہاتھوں سے دفن کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے… جی ہاں… یہ خود کو اپنے ہاتھوں دفن کرنے والے غزاوی کی داستان ہے۔ جس کا مہینوں بعد برآمد شدہ ڈھانچہ اس کے آخری سجدے کا گواہ بن گیا ہے۔
شمالی غــزہ سے ڈاکٹر مصطفیٰ نعیم بیان کرتے ہیں:
آج ہمارے ایک پڑوسی کی لاش ملی۔ زمین میں دبی ہوئی، وقت کے ساتھ گل چکی۔ وہ حالیہ انخلا کے دوران زخمی ہو گئے تھے اور تین دن تک مسلسل خون بہاتے رہے۔ مگر کوئی مدد کو نہیں پہنچا اور نہ خود کسی طبی مرکز پہنچ سکا۔
ذرا تصور کیجیے… تین دن… صرف بہتا ہوا خون… تین دن… نہ کوئی ایمبولینس، نہ بچاؤ کی کوئی راہ، نہ کوئی مدد کرنے والا اور ساتھ دینے والا انسان۔۔۔
جب اسے یقین ہو گیا کہ اب واپسی ممکن نہیں… موت یقینی ہے تو اس نے کسی کا انتظار نہیں کیا…
ایک درخت کو چُنا، جتنی ہمت باقی تھی، اُس کے نیچے زمین کھودی اور اپنے ہی ہاتھوں اپنے جسم کو مٹی کے سپرد کر دیا…
پھر سجدے میں گر گیا… اور موت سے ہم کنار ہوگیا۔
اپنے اہلِ خانہ کے لیے ایک آخری نشانی چھوڑ گیا اپنی انگوٹھی… ایک باریک دھاگے سے باندھ کر ایک ننھی شاخ کے ساتھ لٹکا دی…
گویا خاموشی سے کہہ رہا ہو:
“اگر تم لوٹو… تو مجھے یہیں پاؤ گے…”
آج… نہ کوئی آواز ملی، نہ کوئی چہرہ… بس ہڈیاں ملیں… اور وہ بھی سجدے کی حالت میں…