ضلع کیچ کے شہر تربت سے خاتون خود کش بمبار گرفتار، گرفتار خاتون خود کش بمبار کی شناخت عدیلہ بلوچ کے نام سے ہوئی،
ضلع کیچ کے شہر تربت سے خاتون خود کش بمبار گرفتار،
گرفتار خاتون خود کش بمبار کی شناخت عدیلہ بلوچ کے نام سے ہوئی،
گرفتاری کے وقت عدیلہ بلوچ تربت ٹیچنگ ہسپتال میں نرس کے طور پر کام کر رہی تھی،
عدیلہ بلوچ کی گرفتاری قانون نافذکرنے والے اداروں کی انتھک محنت اور فعال انٹیلی جنس کا ثبوت ہے
میڈیا سے خصوصی گفتگو میں عدیلہ بلوچ کا کہنا تھا کہ;
میں ایک کوالیفائیڈ نرس ہوں اورورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کا ایک پروجیکٹ چلا رہی ہوں
میرا کام لوگوں کی مدد کرنا اور زندگیاں بچاناہے،عدلیہ بلوچ
میری بدقسمتی ہے کہ میں ایسے عناصر کے ساتھ رہی جنہوں نے مجھے صحیح راستے سے بھٹکایا، عدیلہ ہ بلوچ
مجھے ایسے بہکایا گیا کہ میں خود کش حملہ کرنے کیلئے تیار ہو گئی، عدیلہ بلوچ
میں نے یہ بھی نہیں سوچا کہ میرے خودکش حملے کرنے سے کتنے معصوم اور بے گناہ لوگوں کی جان چلی جائے گی، عدیلہ بلوچ
مجھے دہشتگردوں کی جانب سے ایک نئی اور خوشگوار زندگی کے سبز باغ دکھائے گئے، عدیلہ بلوچ
میں اپنے گھر والوں کو بتائے بغیر دہشتگردوں کے پاس پہاڑوں میں چلی گئی، عدیلہ بلوچ
وہاں جا کر مجھے احساس ہوا کہ یہاں مشکلات اور سخت زندگی کے سوا کچھ بھی نہیں ہے، عدیلہ بلوچ