9

وہ امارات جس نے حد سے بڑھ کر کھیلا

وہ امارات جس نے حد سے بڑھ کر کھیلا
بیس سال کی چال کیسے الٹی پڑی — اور پاکستان کے لیے سنہری موقع

متحدہ عرب امارات نے چند دہائیوں میں ریت کے ٹیلوں پر ایک چمکتا ہوا شہر کھڑا کر دیا۔ دبئی آج دنیا کا مالیاتی مرکز ہے، لیکن اس چمک کے پیچھے ایک سوچی سمجھی چال بھی ہے جو اب آہستہ آہستہ بے نقاب ہو رہی ہے۔
پاکستان کے ساتھ امارات کا رویہ کبھی بھی خالص دوستی پر مبنی نہیں رہا۔ یہ ایک حساب کتاب تھا — پاکستان کو مالی طور پر کمزور رکھو، اس کی بندرگاہیں ناکارہ رکھو، اور دبئی کو خطے کا واحد تجارتی مرکز بنائے رکھو۔ یہ کھیل دو عشروں تک چلتا رہا۔ اب وقت نے پلٹا کھایا ہے۔

قرض کا ہتھیار
امارات نے پاکستان کے مرکزی بینک میں اربوں ڈالر جمع رکھے۔ یہ رقم پاکستان کے زرمبادلہ کا اہم حصہ تھی۔ جب بھی اسلام آباد کو قرض کی مہلت چاہیے ہوئی، ابوظہبی کی خوشنودی لازم تھی۔ اس سال جب پاکستان نے شرح سود کم کرانے اور مدت بڑھانے کی درخواست کی تو امارات نے انکار کر دیا اور ساڑھے تین ارب ڈالر واپس مانگ لیے۔
یہ محض مالی معاملہ نہیں تھا۔ یہ ایک پیغام تھا۔

کراچی کو جان بوجھ کر تباہ کیا گیا
2008 سے 2015 تک کراچی آگ اور خون میں ڈوبا رہا۔ ہر سال ہزاروں افراد ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ خوری کی نذر ہوئے۔ بندرگاہ کے قریب کاروبار ناممکن ہو گیا۔ سرمایہ کار بھاگ گئے۔
پاکستانی انٹیلی جنس کی تحقیقات بار بار یہ نتیجہ نکالتی رہیں کہ اس تشدد کی مالی رگیں دبئی سے جڑی تھیں۔ وجہ سیدھی تھی — کراچی کی بندرگاہ اگر ترقی کرے تو دبئی کو چیلنج کرے۔ اسے کبھی ترقی نہ کرنے دو۔
بلوچستان میں گوادر کے خلاف بھی یہی کھیل کھیلا گیا۔ علیحدگی پسند تنظیموں کو خلیجی نیٹ ورکس سے مالی مدد ملتی رہی تاکہ چین کی مدد سے بننے والی گوادر بندرگاہ کبھی فعال نہ ہو سکے۔
دو بندرگاہیں، دو طریقے، ایک مقصد — دبئی کی بالادستی قائم رکھنا۔

اسرائیل سے دوستی اور اس کی قیمت
2020 میں امارات نے اسرائیل سے تعلقات قائم کر لیے۔ اس وقت یہ چال بہت ہوشیارانہ لگی — اسرائیلی ٹیکنالوجی، امریکی سرپرستی اور مغربی سیاسی اثرورسوخ ایک ساتھ مل گئے۔
لیکن اس کا دوسرا رخ بھی تھا۔ پاکستان، مصر، اندونیشیا، ترکی — پوری اسلامی دنیا کی عوام نے اسے غزہ کے ساتھ دھوکہ سمجھا۔ جب تک معاملہ سفارتی کاغذات تک محدود تھا، اسے قابو میں رکھا جا سکتا تھا۔ لیکن جب فروری 2026 میں ایران نے آپریشن ایپک فیوری شروع کیا اور امارات کا اسرائیل نواز کردار سب کے سامنے آ گیا، تو اسلامی دنیا میں امارات کی ساکھ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔

آپریشن ایپک فیوری — سب کچھ ایک ساتھ ٹوٹا
ایران کے اس آپریشن نے امارات کی بیس سالہ حکمت عملی کے تمام ستون ایک ساتھ ہلا دیے۔
دبئی کی اصل طاقت امن اور استحکام کا تصور تھا۔ خلیج میں جنگ نے یہ تصور توڑ دیا۔ جہازرانی مہنگی ہو گئی۔ امیر لوگ سنگاپور اور لندن کی طرف دیکھنے لگے۔ اسرائیل کے ساتھ اتحاد جو کل فائدہ مند لگتا تھا آج اسلامی دنیا میں بوجھ بن گیا۔
سعودی عرب نے فوری طور پر موقع بھانپا۔ جب پاکستان کو امارات کے پیسے واپس کرنے پڑے تو ریاض اور دوحہ نے پانچ ارب ڈالر کی یقین دہانی کرا دی۔ یہ محض مالی مدد نہیں تھی — یہ خلیج میں طاقت کا نیا توازن تھا۔

کراچی کی واپسی
جنرل راحیل شریف کے رینجرز آپریشن نے 2013 میں وہ ڈھانچہ توڑا جس نے کراچی کو یرغمال بنایا ہوا تھا۔ ٹارگٹ کلنگ ہزاروں سے سو سے بھی کم ہو گئی۔ بھتہ خوری ختم ہوئی۔ کاروبار لوٹا۔ بندرگاہ کی تجارت بحال ہونے لگی۔
آج پاکستان تین بندرگاہوں کی بیک وقت ترقی کے دہانے پر کھڑا ہے۔ کراچی جو دبائی گئی تھی اب بحال ہو رہی ہے۔ گوادر جو چینی سرمایہ کاری سے مضبوط ہے آگے بڑھ رہی ہے۔ پورٹ قاسم صنعتی ترقی میں وسعت پا رہی ہے۔
وہ تینوں بندرگاہیں جن کو امارات نے دبائے رکھا، اب بیک وقت جاگ رہی ہیں۔

پاکستان کو کیا کرنا چاہیے
تاریخ میں موقع دروازہ کھٹکھٹا کر نہیں آتا — بس گزر جاتا ہے۔
گوادر کو قومی سلامتی کی ترجیح دی جائے — جیسے کبھی ایٹمی پروگرام کو دی گئی تھی۔ چینی سرمایہ کاری موجود ہے، سعودی ریفائنری کا وعدہ ہے، وسطی ایشیائی ممالک منتظر ہیں — صرف عزم اور تسلسل چاہیے۔
کراچی کی بحالی کو مستقل بنایا جائے۔ وہ مالیاتی نیٹ ورک جنہوں نے شہر کو دہائیوں تباہ رکھا، انہیں دوبارہ فعال نہ ہونے دیا جائے۔
سعودی عرب اور قطر کے ساتھ تعلقات گہرے کیے جائیں — لیکن ہوشیاری کے ساتھ۔ ایک سرپرست کی جگہ دوسرا سرپرست نہ آئے۔ اصل ہدف ہر قسم کے یکطرفہ انحصار سے آزادی ہے۔
اور سب سے اہم — پاکستان اسلامی دنیا کی واحد ایٹمی طاقت ہے۔ جب پوری مسلم امہ دیکھ رہی ہے کہ کون کس کے ساتھ کھڑا ہے، یہ مقام ایک بہت بڑا سفارتی اثاثہ ہے۔ اسے ضائع نہ کیا جائے۔

آخری بات — جغرافیہ ہمیشہ جیتتا ہے
دبئی نے پانچ عشروں میں غیرمعمولی ذہانت سے ترقی کی۔ اس کی عزت کرنی چاہیے۔ لیکن تعمیر کی گئی برتری عارضی ہوتی ہے — جغرافیہ مستقل ہوتا ہے۔
پاکستان کے پاس پچیس کروڑ کی آبادی ہے، دنیا کا چھٹا بڑا فوج، اسلامی دنیا کا واحد ایٹم بم، خلیج اور وسطی ایشیا کے درمیان منفرد جغرافیائی مقام، اور چین کی ناقابل واپسی تزویراتی سرمایہ کاری۔ یہ سب کچھ ہمیشہ سے موجود تھا — بس مالی استحکام اور سیاسی ہوش کا انتظار تھا۔
وہ امارات جس نے بیس سال پاکستان کو اس کی اصل طاقت سے دور رکھا، آج خود اپنے سب سے مشکل امتحان میں ہے۔ یہ پاکستان کی کسی چال کا نتیجہ نہیں — یہ اس کے اپنے حد سے بڑھے ہوئے کھیل کا انجام ہے۔
جغرافیہ، آبادی اور چینی سرمایہ کاری کوئی سمجھوتہ نہیں کرتے۔ وہ بس انتظار کرتے ہیں۔
اور پاکستان کا وقت آ رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں