عمرکوٹ رپورٹ بیوروچیف ڈاکٹر ایم لال واگھانی
کنری،،مبینہ طورپر مغوی لڑکی کی بازیابی اورملزمان کی عدم گرفتاری کیخلاف ورثاء کااحتجاج،ایف آئی آر درج ہونے کے باوجود پولیس ملزمان کوگرفتارنہیں کررہی،انصاف کی فراہمی کامطالبہ۔
تفصیلات کے مطابق نواحی گاؤں حاجی محمدرفیق دڑوکے رہائشی مبینہ طورپر مغوی لڑکی کے والدین کیرو بھیل اسکی برادری کے دیگر مردوخواتین نے پریس کلب کنری کے سامنے احتجاج کیا اس موقع پر انہوں میڈیا سے گفتگو کے دوران الزام عائد کرتے ہوئے بتایا کہ ایک ماہ قبل مورخہ 09مارچ کو مبینہ ملزم سیف الملوک خاضخیلی اوراسکے ساتھیوں نبی بخش خاضخیلی،سکندربھٹی نے رات کی تاریکی میں انکے گھرمیں داخل ہوکر انکی 15سالہ بیٹی چونی کو مبینہ طورپر اغواء کرکے اپنے ساتھ لے گئے تھے اور انہوں وومن پولیس عمرکوٹ کے تھانے میں ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرایاتھا مگر ایک ماہ سے زائدعرصہ گزرجانے کے باوجود پولیس ملزم کوگرفتار کرسکی ہے اورناہی انکی بیٹی کوبازیاب کراسکی ہے انہوں نے بتایاکہ وہ بے حدغریب لوگ ہیں اور روزانہ کی بنیاد پر تھانے کے چکرلگانے پرمجبورہیں، منت سماجت کے باوجود پولیس انکی ایک نہیں سن رہی،رابطہ کرنے پروومن پولیس تھانے کے ہیڈمحرر نے بتایاکہ ورثاء ایف آئی آردرج کرانے کے بعد غائب ہوگئے اورانہوں دوبارہ رابطہ ہی نہیں کیاجبکہ وومن پولیس کی جانب سے تحقیقات جاری ہے تاہم مبینہ مغوی لڑکی کے والدین اوربرادری کے دیگر افراد نے پولیس حکام سے نوٹس لینے اورانصاف کی فراہمی کامطالبہ کیاہے۔
8









