جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں، خطے کو فوری اور پائیدار امن کی ضرورت ہے۔محمد فائق شاہ
ایران، امریکا اور عالمی قوتیں کشیدگی کم کرکے جامع مذاکرات کی طرف آئیں۔امن ترقی پارٹی
لاہور (نمائندہ خصوصی)گلوبل ٹائمز میڈیا یورپ کے مطابق چیئرمین امن ترقی پارٹی محمد فائق شاہ نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ، آبنائے ہرمز کی صورتحال اور عالمی سطح پر پیدا ہونے والی غیر یقینی کیفیت پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ کسی بھی مسئلے کا دیرپا حل نہیں بلکہ اس کے نتیجے میں تباہی، انسانی المیے، معاشی بدحالی اور عالمی عدم استحکام میں اضافہ ہوتا ہے، انہوں نے کہا کہ حالیہ پیش رفت، سفارتی رابطوں اور جنگ بندی کے اشارے اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ تمام فریقین سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس موقع کو ضائع نہ کریں اور مستقل امن کے قیام کے لیے فوری اقدامات کریں، محمد فائق شاہ نے کہا کہ خطہ پہلے ہی بدامنی، غربت، مہنگائی اور توانائی بحران جیسے سنگین مسائل سے دوچار ہے، ایسے میں کسی بھی نئی جنگ کے اثرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا، خصوصاً ترقی پذیر ممالک پر مرتب ہوں گے، جہاں تیل کی قیمتوں میں اضافہ، تجارتی رکاوٹیں اور مہنگائی عوام کے لیے ناقابل برداشت بوجھ بن جائیں گی، انہوں نے خبردار کیا کہ آبنائے ہرمز جیسے اہم تجارتی راستوں کی بندش یا غیر یقینی صورتحال عالمی معیشت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے، اس لیے فوری طور پر کشیدگی میں کمی اور جہاز رانی کے تحفظ کو یقینی بنایا جانا چاہیے، انہوں نے مزید کہا کہ عالمی طاقتوں کو طاقت کے استعمال کے بجائے سفارت کاری، برداشت اور باہمی احترام کو فروغ دینا ہوگا جبکہ اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں کو چاہیے کہ وہ فعال اور غیر جانبدار کردار ادا کرتے ہوئے فریقین کو مذاکرات کی میز پر لائیں اور ایک ایسا جامع اور قابل قبول معاہدہ تشکیل دیں جو خطے میں پائیدار امن کی ضمانت بن سکے، محمد فائق شاہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کسی بھی ملک کی خودمختاری اور سلامتی کا احترام بنیادی اصول ہونا چاہیے اور مسائل کا حل صرف اور صرف بات چیت کے ذریعے ہی ممکن ہے، انہوں نے کہا کہ دنیا اس وقت ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے جہاں دانشمندی، بردباری اور دور اندیشی کی اشد ضرورت ہے، انہوں نے امید ظاہر کی کہ حالیہ سفارتی کوششیں، اعلیٰ سطحی رابطے اور جنگ بندی کے امکانات ایک مثبت پیش رفت ثابت ہوں گے اور خطہ ایک بڑی تباہی سے بچ جائے گا، انہوں نے عالمی رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ انسانی جانوں کے تحفظ، خطے کے استحکام اور عالمی امن کو اپنی ترجیحات میں شامل کریں تاکہ آنے والی نسلوں کو ایک محفوظ اور پرامن دنیا دی جا سکے۔









