ایران جنگ کے باعث عالمی سپلائی متاثر، روس کی چین کو توانائی ضروریات پوری کرنے میں مدد کی پیشکش۔
بدھ کو روسی وزیر خارجہ سرگئی لارؤف نے بیجنگ میں چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کی۔
بیجنگ(انٹرنیشنل ڈیسک)گلوبل ٹائمز میڈیا یورپ کے مطابق روس نے ایران امریکا جنگ کے باعث عالمی سپلائی متاثر ہونے پر چین کو توانائی ضروریات پوری کرنے میں مدد کی پیشکش کر دی۔بدھ کو روسی وزیر خارجہ سرگئی لارؤف نے بیجنگ میں چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کی جس میں مشرق وسطیٰ جنگ اور اس سے پیدا توانائی کے بحران پر تبادلہ خیال کیا گیا۔پریس کانفرنس میں روسی وزیرخارجہ نے کہا روس چین اور مشرق وسطیٰ کے بحران سے متاثرہ دیگر ممالک کو توانائی کی فراہمی کے لیے تیار ہے۔روسی وزیر خارجہ نے چین اور روس کی اس صلاحیت پر بھی بات کی کہ وہ امریکا کی ایران کے خلاف جارحانہ فوجی کارروائیوں کے معاشی اثرات کو برداشت کر سکتے ہیں، جن کے باعث عالمی تیل اور گیس کی قیمتوں میں شدید اضافہ ہوا ہے۔روسی وزیر خارجہ نے کہا کہ شکر ہے کہ ہمارے اور چین کے پاس تمام تر صلاحیتیں موجود ہیں، چاہے وہ استعمال میں ہوں، محفوظ رکھی گئی ہوں یا منصوبہ بندی کے مرحلے میں ہوں تاکہ ہم اس قسم کی جارحانہ مہم جوئی پر انحصار سے بچ سکیں، جو عالمی معیشت اور عالمی توانائی کو نقصان پہنچاتی ہے۔یوکرین جنگ پر روسی وزیرخارجہ نے کہا امریکا روس کو روکنے کی ذمہ داری یورپ پر منتقل کرنا چاہتا ہے تاکہ چین کے محاذ پر ان کے ہاتھ کھلے رہیں ، اس کے لیے یوکرین کے ساتھ فوجی اتحاد بنانے کے لیے عملی اقدامات بھی کیے جارہے ہیں۔دوسری جانب چینی وزارت خارجہ کے مطابق روس اس کی توانائی ضروریات پوری کرنے میں مدد دینے کے لیے تیار ہے۔بیان میں کہا گیا کہ چین اور روس باہمی احترام اور فائدے کی بنیاد پر توانائی کے شعبے میں عملی تعاون کرتے ہیں ۔