فیکٹ چیک: اردوان نے یہ نہیں کہا کہ اگر پاکستان ثالثی نہ کر رہا ہوتا تو ترکیہ اسـرائـیـل پر حملہ کر دیتا*
*اردوان نے اپنی تقریر میں پاکستان کا ذکر نہیں کیا بلکہ لبـنـان پر بـمـباری پر اسـرائیـل کو تنقید کا نشانہ بنایا۔*
سوشل میڈیا پر ترکیہ کے صدر سے منسوب ایک بیان تیزی سے گردش کر رہا ہے جس میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ اگر پاکستان رواں ماہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ثالثی نہ کرتا تو ترکیہ اسـرائـیـل پر حملہ کر دیتا۔
یہ دعویٰ غلط ہے۔ ترک صدر رجب طیب اردوان نے ایسا کوئی بیان نہیں دیا۔
دعویٰ
11 اپریل کو، ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک اکاؤنٹ سے ترک صدر اردوان کی ترکی زبان میں تقریر کی ایک ویڈیو شیئر کی گئی۔ اس پوسٹ کا کیپشن کچھ یوں ہے:
“پاکستان جیت رہا ہے، صدر اردوان نے کہا ، جنگ بندی کے دن اسـرائـیـل نے سینکڑوں بے گناہ لبـنانـیوں کو شـہیـد کیا، نیـتـن یاہو خــون اور نفرت میں اندھا ہو چکا ہے، اگر امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ میں پاکستان ثالثی نہ کرتا، تو ہم اسـرائـیـل کو اس کی اوقات دکھا دیتے۔”
اس آرٹیکل کے شائع کیے جانے کے وقت تک پوسٹ کو 34 لاکھ دفعہ دیکھا، 1 ہزار 600 بار لائک اور 10 ہزار مرتبہ ری شیئر کیا گیا۔
*حقیقت*
ترک صدر رجب طیب اردوان نے اپنی حالیہ تقاریر میں پاکستان کے بارے میں ایسا کوئی بیان نہیں دیا۔
ریورس امیج سرچ (Reverse image search) کی مدد سے جیو فیکٹ چیک کو معلوم ہوا کہ یہ کلپ 10 اپریل کو استنبول میں منعقدہ انٹرنیشنل کانفرنس آف ایشین پولیٹیکل پارٹیز (ICAPP) کے نویں اجلاس کے شرکاء سے صدر اردوان کے خطاب سے لیا گیا ہے۔
ترکیہ کے ڈس انفارمیشن کاؤنٹر ایکشن سینٹر (Türkiye’s Disinformation Counteraction Center) نے بھی 13 اپریل کو ایکس (ٹوئٹر) پر ایک وضاحتی بیان جاری کیا، جس میں کہا گیا ہے کہ صدر اردوان نے اسـرائـیـل پر چڑھائی یا حملے کے حوالے سے کوئی گفتگو نہیں کی۔
اردوان کے خطاب کو متعدد ترک میڈیا اداروں بشمول ینی شفق (Yeni Şafak) اور ترکیہ ٹوڈے (Türkiye Today) نے بھی کور کیا اور ان میں سے کسی نے بھی وہ باتیں رپورٹ نہیں کیں جو اس وقت انٹرنیٹ پر گردش کر رہی ہیں۔