سکھر (بیورورپورٹ)بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن سکھر کے تحت جاری میٹرک کے سالانہ
سکھر (بیورورپورٹ)بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن سکھر کے تحت جاری میٹرک کے سالانہ امتحانات کے دوران نقل اور دیگر بے ضابطگیوں کے متعدد کیسز سامنے آگئے ہیں۔ بورڈ ذرائع کے مطابق نویں اور دسویں جماعت کے امتحانات میں مجموعی طور پر 171 نقل و خلاف ورزی کے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جس پر بورڈ انتظامیہ نے سخت نوٹس لیتے ہوئے امتحانی مراکز کی نگرانی مزید سخت کر دی ہے۔تفصیلات کے مطابق امتحانات کے دوران 54 نقل کے کیسز سامنے آئے جبکہ 72 امیدوار موبائل فون کے ساتھ پکڑے گئے۔ اسی طرح 42 جعلسازی کے کیسز بھی رپورٹ کیے گئے ہیں، جن میں امتحانی قوانین کی خلاف ورزی اور غیر قانونی طریقوں سے امتحان دینے کی کوشش شامل ہے۔بورڈ حکام کے مطابق امتحانی عمل کے دوران 3 امیدواروں کی جگہ دوسرے افراد کو امتحان دیتے ہوئے پکڑا گیا، جس کے بعد متعلقہ امیدواروں کے خلاف ضابطے کے مطابق کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ایسے عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جا رہی ہے تاکہ امتحانی نظام کی شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔بورڈ انتظامیہ نے نقل کی روک تھام اور امتحانی ماحول کو صاف و شفاف رکھنے کے لیے 34 انسپکشن ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں، جو مختلف امتحانی مراکز کا اچانک دورہ کر کے نگرانی کے فرائض انجام دے رہی ہیں۔ اس کے علاوہ امتحانی مراکز پر خواتین اہلکاروں سمیت خصوصی ٹیمیں بھی تعینات کی گئی ہیں تاکہ طلبہ و طالبات کے امتحانات کو بہتر انداز میں مانیٹر کیا جا سکے۔بورڈ حکام کے مطابق امتحانات کا عمل محکمہ تعلیم سندھ کی نگرانی میں جاری ہے اور تمام مراکز پر سیکیورٹی و انتظامی اقدامات مزید موثر بنا دیے گئے ہیں۔ اس ضمن میں بورڈ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ امتحانی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مزید اقدامات کیے جائیں گے۔یہ رپورٹ کنٹرولر امتحانات رضوان احمد میمن کے دستخط سے جاری کی گئی، جس میں امتحانی نظام کی شفافیت برقرار رکھنے کے عزم کا اظہار بھی کیا گیا ہے۔