آئینی ترمیم میں الجھی قوم کو پتہ ہی نہیں چلا حکومت نے 100 ارب کا ٹیکہ لگا دیا
آئینی ترمیم میں الجھی قوم کو پتہ ہی نہیں چلا
حکومت نے 100 ارب کا ٹیکہ لگا دیا
پاکستان میں گذشتہ پورا ہفتہ آئینی ترمیم کے ڈرامہ کی نظر ہوئے
جب پوری قوم آئینی ترمیم میں الجھی ہوئی تھی حکومت نے دو بہت ہی غلط کام کئے
جس سے پاکستان کے قومی خزانہ کو رواں مالی سال میں کم ازکم 100 ارب روپیہ کا نقصان ہو گا
پہلا کام حکومت نے لندن کے ایک کمرشل بنک سے 600 ملین ڈالرز کا مہنگی ترین شرح سود 11 فیصد پر قرض لیا یاد رہے دنیا میں 3 سے 5 فیصد پر ایسے بنک قرض دیتے ہیں
یاد رہے جب سے پاکستان بنا ہے اتنی مہنگی شرح سود پر پہلی دفعہ کسی حکومت نے قرض لیا ہے یہ 600 ملین ڈالرز 11 فیصد شرح سود پر کیوں لئے گئے کیا یہ IMF کی شرط تھی اس پر قوم کو کچھ بھی نہیں بتایا گیا
دوسرا 14 ستمبر کو وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے 20 ایم این ایز کو وفاقی پارلیمانی سیکرٹری بنا دیا ایک وفاقی پارلیمانی سیکرٹری کا خرچ وفاقی وزیر جتنا ہوتا ہے
گاڑی، دفتر ، سٹاف۔ خرچ سمیت متعدد مراعات دینا ہوتی ہیں
مطلب 20 وفاقی وزراء کا خرچ قوم کی جیب سے نکلنا شروع ہو گیا
جب تک پاکستان کی حکمران اشرافیہ اپنی عیاشی ختم نہیں کرے گی اور مہنگے قرض لینے کی پالیسی تبدیل نہیں کرے گی پاکستان معاشی طور پر خوشحال نہیں ہو گا
(تحریر !:سیدمدبرشاہ)