September 1, 2026
google.com, pub-9673306505872210, DIRECT, f08c47fec0942fa0

شاہ فیصل گیلانی اور مون خان کے مابین لڑائی کا کیس نئے موڑ میں داخل۔

IMG-20260220-WA0249
google.com, pub-9673306505872210, DIRECT, f08c47fec0942fa0

شاہ فیصل گیلانی اور مون خان کے مابین لڑائی کا کیس نئے موڑ میں داخل۔

دونوں فریقین کے مابین لڑائی گزشتہ سال نومبر میں ہو گیا تھا۔ذرائع

شیخوپورہ(نمائندہ خصوصی)گلوبل ٹائمز میڈیا یورپ کے مطابق سابق ایس ایچ او تھانہ صدر شیخوپورہ انسپکٹر شاہ فیصل گیلانی اور ن لیگ کے رہنماء مون خان کے مابین لڑائی جھگڑے کا کیس ایک نئے فیصلہ کن موڑ میں داخل ہوگیا ہے۔پولیس نے سیاسی اثرو رسوخ کی بناء پر لیگی رہنماء مون خان کی مدعیت میں ایس ایچ او شاہ فیصل گیلانی کے خلاف خود ساختہ میڈیکو لیگل کے تحت مقدمہ درج کیا تھا جس پر ایس ایچ او نے بھی عدالتی قانونی چارہ جوئی اختیار کی، تو عدالت نے حقائق کی روشنی میں پٹیشنز کو منظور کرتے ہوئے ملزمان کے خلاف بھی مقدمات درج کرنے کے احکامات جاری کر دئیے ہیں۔عدالت کی جانب سے ملزمان کےخلاف مقدمات درج کرنے کے احکامات سے ایس ایچ او کو بھی انصاف ملنے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔معزز عدالت نے ملزمان مون خان اور اس کے بھائی جبران عرف کاکا کے خلاف دہشت گردی کی دفعات سمیت سمیت 2 مختلف مقدمات درج کرنے کا حکم دے دیا ہے۔زرائع کے مطابق سابق ایس ایچ او انسپکٹر شاہ فیصل گیلانی کی پٹیشنز پر ایڈیشنل سیشن جج شیخوپورہ شکیل احمد نے مون خان اور اس کے بھائی جبران عرف کاکا کے خلاف ایس ایچ او تھانہ بی ڈویژن شیخوپورہ کو دوسری ایف آئی آر بھی درج کرنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں جبکہ دوسری جانب مون خان کی طرف سے لاہور ہائی کورٹ میں دائر حکمِ امتناعی کے آرڈر کو بھی خارج کر دیا گیا ہے، جس کے باعث اب ملزمان کے لیے قانونی مشکلات میں بھی مزید اضافہ ہو گیا ہے زرائع کے مطابق دونوں فریقین کے مابین لڑائی گزشتہ سال نومبر میں اس وقت شروع جب سابق ایس ایچ او شاہ فیصل نے ٹریکٹر ٹرالی پر اونچی آواز میں گانے چلا کر عوام الناس کو پریشان کرنے پر ساونڈ ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا جس کی سفارش لیگی رہنماء مون خان کی تھی جبکہ اس نے ایک اور سفارش بھی کی تھی کہ ان کے مخالفین کا منڈی جھبراں میں بدھ بازار جبراً ختم کروا کر ان کا بازار لگوایا جائے جو ایس ایس ایچ او شاہ فیصلے نے اسکا غیر قانونی حکم ماننے سے انکار کیا، تو لیگی رہنماء مون خان نے نشہ میں دھت ہو کر تھانہ میں آکر پبلک کے سامنے ایس ایچ او شاہ فیصل گیلانی پر حملہ کردیا اور گریبان پکڑ کر جان سے مار دینے کی دھمکیاں دیں، جس پر ملزم کے خلاف قانونی کاروائی شروع کی تو دوران جامہ تلاشی ملزم کے قبضہ سے منشیات برآمد برآمد ہو گئی، جس پر اندارج رپٹ و استغاثہ کی کاروائی شروع کی تو ملزم کے حواریوں نے تھانہ پر حملہ کرکے ملزم کو چھڑوالیا اور پھر سیاسی ہمدردیاں سمیٹنے کے لیے روڈ بلاک کردیا اور ایس ایچ او شاہ فیصل کو تذلیل کے ساتھ اپنے ڈیرے پر معافی منگوا کر جھکانے کے لیے سیاسی اثرو رسوخ سے ہسپتال سے خود ساختہ میڈیکو لیگل لے مقدمہ درج کروا دیا، تاہم ایس ایچ او شاہ فیصل گیلانی نے سادات کے تقدس اور وردی کے تشخص کو برقرار رکھنے کے لیے قانونی چارہ جوئی اختیار کی جس کے تحت عدالت نے درست موقف کو تسلم کرتے ہوئے ملزمان مون خان اور اس کے بھائی سمیت حواریوں کے خلاف مقدمات درج کرنے کا بھی حکم دے دیا ہے اس دوران سول سوسائٹی نے بھی ایس ایچ او کے خلاف ہونے والی زیادتیوں پر سماجی رابطوں کی ویب سائٹس سوشل میڈیا پر آواز بلند کی۔قانونی ماہرین کے مطابق ملزمان کے خلاف اندارج مقدمات کی اس پیش رفت پر انصاف پر مبنی حقائق سامنے آجائیں گے جس انصاف کے ساتھ پولیس کا فخر وردی کا تقدس بھی بحال ہو گا۔

google.com, pub-9673306505872210, DIRECT, f08c47fec0942fa0