باچا خان یونیورسٹی میں پیش آنے والے حالیہ واقعے نے کئی سنگین سوالات کو جنم دیا ہے۔
باچا خان یونیورسٹی میں پیش آنے والے حالیہ واقعے نے کئی سنگین سوالات کو جنم دیا ہے۔
تعلیمی ادارے میں ریاست مخالف یا متنازع سرگرمی کی بنیادی ذمہ داری ادارے کی اعلی قیادت پر عائد ہوتی ہے۔
چارسدہ(نمائندہ خصوصی)گلوبل ٹائمز میڈیا یورپ کے مطابق باچاخان یونیورسٹی چارسدہ: ریاست مخالف نعرے بازی کا معاملہ اصل ذمہ دار کون ہے۔باچا خان یونیورسٹی میں پیش آنے والے حالیہ واقعے نے کئی سنگین سوالات کو جنم دیا ہے۔ شعبہ فارمیسی کے چار طلبہ کو مبینہ طور پر کیمپس کے اندر لوڈ اسپیکر کے ذریعے بھارتی ترانہ گانے اور “جے ہند” کے نعرے لگانے پر یونیورسٹی سے خارج کر دیا گیا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق اس اقدام کو ریاست مخالف سرگرمی اور قومی یکجہتی کے خلاف قرار دیا گیا۔ڈسپلنری کمیٹی کے 73ویں اجلاس کی سفارشات پر چاروں طلبہ کو نہ صرف تعلیمی ادارے سے نکال دیا گیا بلکہ ان کی ہاسٹل نشستیں بھی منسوخ کر کے فوری خالی کرنے کا حکم جاری کیا گیا۔
تاہم اصل سوال یہ ہے کہ جب کیمپس کے اندر وی سی کے دفتر کے سائے میں لوڈ اسپیکر کے ذریعے ایسے نعرے لگائے جا رہے تھے تو انتظامیہ کہاں تھی؟ کیا کیمپس کی سیکیورٹی، نگرانی اور نظم و ضبط کی مکمل ذمہ داری وائس چانسلر اور متعلقہ حکام پر عائد نہیں ہوتی۔سوشل میڈیا ایکٹیوسٹس نے اس واقعے پر شدید ردعمل دیتے ہوئے انتظامیہ کی چشم پوشی کو دیدہ دانستہ غفلت قرار دیا۔ عوامی دباؤ اور آن لائن ہنگامے کے بعد ہی یونیورسٹی انتظامیہ حرکت میں آئی اور نوٹیفکیشن جاری کیا گیا۔ سوال یہ بھی اٹھ رہا ہے کہ اگر سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل نہ ہوتی تو کیا کارروائی عمل میں آتی۔قانونی و انتظامی اصولوں کے مطابق کسی بھی تعلیمی ادارے میں پیش آنے والی ریاست مخالف یا متنازع سرگرمی کی بنیادی ذمہ داری ادارے کی اعلیٰ قیادت پر عائد ہوتی ہے۔ ایسے میں صرف طلبہ کو موردِ الزام ٹھہرانا کافی نہیں، بلکہ وائس چانسلر اور دیگر متعلقہ افسران سے بھی جواب طلبی ہونی چاہیے کہ کیمپس کے اندر اس نوعیت کی سرگرمی ممکن کیسے ہوئی۔یہ معاملہ محض چار طلبہ کی برخاستگی تک محدود نہیں بلکہ ادارہ جاتی نگرانی، سیکیورٹی نظام اور انتظامی ذمہ داریوں پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ اگر بروقت اور مؤثر نگرانی موجود ہوتی تو شاید یہ نوبت ہی نہ آتی۔