October 26, 2026

5 فروری: خوف کے سائے میں جیتی ہوئی وادی کی کہانی

IMG-20260203-WA0237(1)

5 فروری: خوف کے سائے میں جیتی ہوئی وادی کی کہانی
غلام مصطفی جمالی، تحصیل ٹنڈوباگو، ضلع بدین
0333-3737575
5 فروری ہر سال پاکستان اور دنیا کے کئی ممالک میں یومِ کشمیر کے طور پر منایا جاتا ہے۔ یہ دن صرف ایک تاریخ نہیں، بلکہ ایک جذباتی علامت ہے، جو کشمیری عوام کے درد، آزادی کی خواہش اور عالمی ضمیر کی ذمہ داری کو اجاگر کرتی ہے۔ وادی کو قدرتی حسن کی وجہ سے زمین کا جنت کہا جاتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس حسن کے پیچھے لاکھوں لوگ بیچینی، خوف اور غیر یقینی صورتحال میں زندگی گزار رہے ہیں۔
کشمیری حالات کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اس کی تاریخی پس منظر پر نظر ڈالیں۔ 1947 میں بھارت اور پاکستان کی تقسیم کے دوران کشمیر کی سیاسی حیثیت ایک اہم مسئلہ بن گئی۔ خطے میں مسلم اکثریت کے باوجود ریاست کا حکمران ہندو تھا، جس کی وجہ سے علاقے میں سیاسی کشیدگی، اندرونی تنازعات اور قبضے کے مسائل پیدا ہوئے۔ 1947 سے لے کر کئی فوجی تنازعات، محدود انتظامی بندوبست اور سیاسی معاہدوں کی خلاف ورزیاں اس علاقے کو مسلسل کشیدگی کا شکار بناتی رہی ہیں۔ اقوام متحدہ کی قرارداد 47/1948 اور بعد میں 51/1951 میں کشمیری عوام کو حقِ خودارادیت کے لیے رائے شماری کا حق دینے کا ذکر موجود ہے، لیکن اس پر مکمل عمل ابھی تک نہیں ہوا۔
کشمیری عوام کی روزمرہ زندگی پر سیاسی کشیدگی اور فوجی موجودگی کے اثرات گہرے ہیں۔ طلبہ اور نوجوانوں کی زندگی میں تعلیمی اداروں تک رسائی محدود ہو سکتی ہے، اسکول بند ہونے کی وجہ سے تعلیمی نقصان ہوتا ہے، اور نوجوانوں میں نفسیاتی دباؤ بڑھتا ہے۔ خواتین گھروں کے اندر محدود سرگرمیوں تک محدود رہتی ہیں، جبکہ خاندانوں پر مالی اور ذہنی دباؤ بڑھ جاتا ہے۔ بچوں کا بچپن خوف اور عدم تحفظ میں گزرتا ہے، جس کا اثر ان کی نفسیاتی اور سماجی ترقی پر پڑتا ہے۔
بھارت کا موقف یہ رہا ہے کہ سخت سیکیورٹی انتظامات، پابندیاں اور انتظامی اقدامات دہشت گردی کو روکنے، استحکام قائم رکھنے اور ترقیاتی کام کو آگے بڑھانے کے لیے ضروری ہیں۔ سرکاری رپورٹس اور بیانات میں سڑکوں، اسپتالوں، تعلیمی اداروں اور انفراسٹرکچر کے منصوبوں کا ذکر بھی کیا جاتا ہے۔ بھارت کا کہنا ہے کہ استحکام کے بغیر ترقی ممکن نہیں، اس لیے عارضی پابندیاں ضروری ہیں۔ لیکن انسانی حقوق کی تنظیمیں اور عالمی مشاہداتی رپورٹس مسلسل اظہار کرتی رہیں کہ ان اقدامات کی وجہ سے عام لوگوں کی آزادی، رائے دینے، سیاسی سرگرمیوں، میڈیا اور رابطے کی آزادی متاثر ہوتی ہے۔
عالمی برادری کی کارکردگی پر بھی سوال اٹھتے ہیں۔ اقوام متحدہ کی پرانی قراردادیں ابھی بھی حوالہ جات میں موجود ہیں، لیکن عملی اقدامات کم دکھائی دیتے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں رپورٹس جاری کرتی ہیں، لیکن ان رپورٹس کے بعد زمینی حالات میں واضح تبدیلی محدود رہتی ہے۔ بڑی عالمی طاقتیں اپنے مفادات، سفارتی توازن اور علاقائی اتحاد کو ترجیح دیتی ہیں، جس کی وجہ سے انسانی مسائل اکثر پس منظر میں رہ جاتے ہیں۔ نتیجتاً کشمیری عوام کو یہ احساس ہوتا ہے کہ ان کا درد اور فریاد سنی جا رہی ہے، لیکن عملی مدد محدود ہے۔
2019 میں آئینی تبدیلی کے بعد کشمیر کی سیاسی حیثیت میں تبدیلیاں آئیں۔ اس سے پہلے انتظامی ڈھانچہ ریاستی خودمختاری پر مبنی تھا، جبکہ تبدیلی کے بعد یہ بندوبست بھارتی صوبے کی شکل میں بدل گیا۔ نتیجتاً علاقے میں سیاسی سرگرمیوں پر پابندیاں، مقامی رہنماؤں کی گرفتاری اور شہری آزادیوں پر اثرات پڑے۔ یہ تبدیلی عالمی سطح پر بھی بحث کا موضوع بنی، جہاں انسانی حقوق اور سیاسی شناخت کے حوالے سے تشویش ظاہر کی گئی۔
کشمیر میں امن اور استحکام کا بنیادی حل گفتگو، اعتماد سازی، انسانی حقوق کا احترام اور عوام کی رائے پر مبنی حکومت میں ہے۔ خوف، تشدد اور پابندیاں عارضی طور پر قابو فراہم کر سکتی ہیں، لیکن طویل عرصے میں مستقل امن کے لیے لوگوں کے دل جیتنا ضروری ہے۔ امن صرف بندوقوں اور فوجی موجودگی سے نہیں آ سکتا۔ جب لوگوں کو یہ احساس ہو کہ ان کی آواز سنی جا رہی ہے، ان کی سیاسی شناخت کا احترام ہو رہا ہے، اور ان کے بنیادی حقوق محفوظ ہیں، تب ہی وادی میں حقیقی امن قائم ہو سکتا ہے۔
کشمیر کا مسئلہ صرف دو ممالک کے سرحدی تنازع تک محدود نہیں، بلکہ یہ انسانی حقوق، سماجی انصاف، نفسیاتی صحت اور نسلوں کے مستقبل کا سوال ہے۔ وادی میں خوف اور عدم تحفظ کے ماحول میں پروان چڑھنے والے نوجوان اور بچے مستقبل کے بارے میں یقین کے ساتھ سوچ نہیں سکتے۔ یہ نسل تعلیمی نقصان، محدود روزگار کے مواقع، سماجی پابندیوں اور سیاسی غیر اعتماد والے ماحول میں بڑھ رہی ہے۔ خواتین گھروں کے اندر محدود زندگی گزارتی ہیں، جبکہ خاندانوں پر مالی اور ذہنی دباؤ بڑھ جاتا ہے۔
میڈیا اور رابطے کا کردار بھی اہم ہے۔ جدید دور میں معلومات تک رسائی ایک بنیادی ضرورت بن گئی ہے۔ جب رابطے میں رکاوٹیں پیدا ہوں، تو نہ صرف کاروبار، بلکہ تعلیم، صحت اور روزانہ کے رابطوں پر بھی اثر پڑتا ہے۔ لوگ اپنے پیاروں سے رابطہ نہ کر سکنے کی وجہ سے ذہنی دباؤ محسوس کرتے ہیں۔ اسی وقت، عالمی میڈیا میں پیش ہونے والی تصاویر اور مقامی تجربات کے درمیان فرق بھی لوگوں کی سوچ پر اثر انداز ہوتا ہے۔
5 فروری کا دن عالمی ضمیر کو یاد دلانے والا دن ہے۔ یہ دن صرف جذباتی اظہار نہیں، بلکہ انسانی، اخلاقی اور سفارتی حمایت کا بھی پیغام دیتا ہے۔ اس دن مظاہرے، ریلیاں، سیمینار اور انسانی زنجیر کے ذریعے کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا جاتا ہے۔ لیکن اصل کام یہ ہے کہ عالمی برادری اور طاقتور ممالک صرف اظہار تک محدود نہ رہیں، بلکہ سنجیدہ اور عملی مدد، سیاسی دباؤ اور انسانی حقوق کی حفاظت میں اقدامات کریں۔
کشمیری عوام کے لیے امن، خوشحالی اور آزادی کا خواب ابھی زندہ ہے۔ یہ خواب مکمل کرنے کے لیے عالمی ضمیر کی بیداری، انسانی حقوق کی سنجیدہ حمایت، سیاسی حوصلہ اور عوامی خواہشات کا احترام ضروری ہے۔ اگر عالمی برادری ایسے اقدامات کرے، تو 5 فروری صرف یومِ یکجہتی نہیں، بلکہ ایک دن بن سکتا ہے، جس میں وادی کو خوف سے آزاد، سکون اور امن کے ساتھ مستقبل دیا جائے۔
کشمیری المیہ اب بھی جاری ہے، لیکن انسانیت، انصاف اور ہمدردی کی طاقت یہ ثابت کر سکتی ہے کہ ایک دن وادی کے لوگ خودمختار، محفوظ اور پرامن زندگی گزار سکیں۔ 5 فروری ان کے لیے صرف ایک یادگار تاریخ نہیں، بلکہ امید، حوصلہ اور عالمی ضمیر کو جگانے والا دن ہے۔