میں ذاتی طور پر بھی بہت شرمندہ اور معافی کی طلبگار ہوں۔ انتظامیہ جو بتا رہی تھی، وہ مجھے شیئر کرنا پڑا۔ استعفے کے لیے بھی تیار تھی لیکن وزیراعلیٰ کا حکم تھا کہ میری غلطی نہیں ہے۔۔۔’
‘میں ذاتی طور پر بھی بہت شرمندہ اور معافی کی طلبگار ہوں۔ انتظامیہ جو بتا رہی تھی، وہ مجھے شیئر کرنا پڑا۔ استعفے کے لیے بھی تیار تھی لیکن وزیراعلیٰ کا حکم تھا کہ میری غلطی نہیں ہے۔۔۔’
عظمیٰ زاہد بخاری
‘نام عظمیٰ بخاری کا آ رہا ہے، ان کا کوئی قصور نہیں۔ انہیں جو معلومات مل رہی تھیں، وہ ہمیں بھی مل رہی تھیں۔’
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز
حیران اس بات پر ہوں کہ یہ کون سی انتظامیہ تھی جو وزیراعلیٰ سمیت وزیر اطلاعات کو غلط معلومات فراہم کر رہی تھی؟ ہم صحافی ہیں اور ہمیں سب سے پہلے ریسکیو 1122 کے ترجمان فاروق احمد نے خبر دی کہ بھاٹی گیٹ نزد داتا دربار کے قریب مین ہول میں خاتون اور بچی کے گرنے کی اطلاع آئی ہے۔
اس کے بعد بھی ہم پولیس سے لے کر ریسکیو 1122 اور دیگر اداروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں تھے۔ تقریباً تمام اداروں کے ترجمان یہی بتاتے رہے کہ واقعے کی کال موصول ہوئی ہے اور سرچ آپریشن جاری ہے۔ آغاز سے لے کر آپریشن مکمل ہونے تک تمام سرکاری ادارے مسلسل یہی فیڈ کرتے رہے کہ آپریشن جاری ہے اور تب تک جاری رہے گا جب تک تحقیقات مکمل نہیں ہو جاتیں یا لاشیں برآمد نہیں ہو جاتیں۔
البتہ سرچ آپریشن میں شامل ایک ادارے کے ترجمان نے شک ضرور ظاہر کیا تھا کہ ممکنہ طور پر واقعہ مختلف ہو سکتا ہے تاہم انہوں نے آف دی ریکارڈ بات بتائی اور باضابطہ طور پر آپریشن جاری رہنے کی ہی خبر دی۔
اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ انتظامیہ کے وہ کون سے کارندے تھے جو وزیراعلیٰ اور وزیر اطلاعات کو غلط فیڈ کر رہے تھے اور کیوں؟ یا یہ صرف اپنے وزیر کو بچانے کا بہانہ ہے؟ وہ ’زیرو ٹالرینس‘ والا فارمولا یہاں کیوں اپلائی نہیں ہوتا؟
صحافی اگر دانستہ یا نادانستہ طور پر فیک نیوز شیئر کر دے یا حکومت کے مطابق وہ خبر فیک، مس انفارمیشن یا ڈس انفارمیشن کے زمرے میں آتی ہو تو پیکا فوری لگا دیا جاتا ہے۔ تب تو کوئی بہانہ نہیں چلتا؟ یہ اپنوں کو بچانے کے لیے ہی بہانے کیوں تراشے جاتے ہیں؟
عظمیٰ بخاری نے جو بیان جاری کیا تھا وہ پڑھ کر تو ایسا ہرگز نہیں لگتا کہ ’انتظامیہ‘ نے غلط معلومات فراہم کیں بلکہ وہ باقاعدہ ایک تراشا ہوا بیان معلوم ہو رہا تھا جسے استعمال کر کے ایک بیانیہ بنایا جا سکتا تھا لیکن بدقسمتی سے کامیابی نہ ملی!
بریفنگ کے دوران وزیراعلیٰ مریم نواز نے درست کہا کہ ’اگر یہ میری یا آپ میں سے کسی کی بیٹی ہوتی تو میں آپ سے پوچھتی۔۔۔ پورا سسٹم نہ ہل کے رہ جاتا؟‘
بجا ہے۔ سو فیصد بجا ہے۔ اپنی کوتاہیوں کو چھپانے کے لیے آپ کے پاس ہزار بہانے ہیں لیکن یہی قانون تب بہت اچھل رہا ہوتا ہے جب الزام کسی عام شہری پر ہو!
ادیب یوسفزئی