August 28, 2026
google.com, pub-9673306505872210, DIRECT, f08c47fec0942fa0

اظہاریہ کتاب یمس پر جب میری پہلی نظر پڑی، تو میں پہلے پہل اس کے دلفریب، جاذب نظر ٹائٹل میں کھوگیا۔ ایک خوابی دنیا سی لگی، پھر سوچ میں پڑگیا۔ اردو ادب سے بے پناہ محبت کے زیراثر خاصا مطالعہ رہا۔ اردو زبان کو پڑھنے میں اس فقیر کو بھی نوابی کا مزہ آیا۔ مگر یہ کیا؟ کتاب

IMG-20240916-WA0174
google.com, pub-9673306505872210, DIRECT, f08c47fec0942fa0

اظہاریہ
کتاب یمس پر جب میری پہلی نظر پڑی، تو میں پہلے پہل اس کے دلفریب، جاذب نظر ٹائٹل میں کھوگیا۔ ایک خوابی دنیا سی لگی، پھر سوچ میں پڑگیا۔ اردو ادب سے بے پناہ محبت کے زیراثر خاصا مطالعہ رہا۔ اردو زبان کو پڑھنے میں اس فقیر کو بھی نوابی کا مزہ آیا۔ مگر یہ کیا؟ کتاب کے عنوان یمس سے اجنبیت، سوچا شاید کوئی شاعرانہ تک بندی ہے۔ پھر جب کتاب کے مصنف کا نام پڑھا تو میں چونکا، ارے یہ تو ہتھیلی پر چاند والے اپنے عبدالباسط خان ہیں، مگر یہ کوئی شاعر تو نہیں! ہاں مگر شاعری، خصوصی طور پر فلمی شاعری اور موسیقی سے بے پناہ محبت اور معلومات رکھتے ہیں۔ اس سوچ بچار کے بعد کتاب یمس کے پیٹھ پیچھے صاحب کتاب عبدالباسط خان کا مسکراتا چہرہ اور کتاب پر ان کا بیانیہ پڑھا تو لفظ ی م س، کا راز افشا ہوا۔ ی م س یعنی یادیں، محبتیں اور سفر۔
محترم عبدالباسط خان ایک بذلہ سنج، مرنجان مرنج اور چلبلی شخصیت کے مالک ہیں۔ ان کا انداز بیان، ان کی یادیں، محبتیں اور سفر ایک انتہائی دلفریب زندگی سے بھرپور ہے۔
حیات زندگانی لمحوں پر مشتمل ہے۔ قدرت کو منظور ہو تو زندگی کے لمحے دہائیوں میں تبدیل ہوجاتے ہیں، مصنف عبدالباسط خان کی سن 90 کی دہائی کی زندگی، ایک رشک آمیز زندگی کے احوال ہیں اور یقین ہوچلا ہے کہ قدرت کی عطیہ کردہ زندگی واقعی خوبصورت ہے۔ بشرطیکہ اس کو زندہ دلی کا نام دیا جائے۔
رو میں ہے رخش عمر کہاں دیکھئے تھمے
نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں

٭ ڈاکٹر فرید اللہ صدیقی

google.com, pub-9673306505872210, DIRECT, f08c47fec0942fa0